Ummul baneen
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Ummulbaneen (s.a) recited by Shahid Baltistani
جب بھی آیا کوئی عباس کا پرسہ دینے
رو رو کے ہر ایک سے یہ عباس کی مادر نے کہا
میں امالبنین ہوں لوگوں
عباس کی ماں ہوں
عباس کو ایک پل نہ روی
شبیر کو رونے کی خاطر
میں آج تلک زندہ ہوں
میں امالبنین۔۔۔
عباس تو میرا بیٹا ہے
شبیر ہے بیٹا زہرا کا
سو بھی ہوتے عباس اگر
شبیر پہ کر دیتی صدقہ
سیکھا ہے ان سے درس وفا
حسنین کی خدمت فرض میرا
زینب کے لئے فضہ ہوں
میں امالبنین۔۔۔
یہ کم تو نہیں رتبہ میرا
میرے قدموں تلے خالق نے
اس غازی کی جنت رکھ دی
جنت جو سبھی کو بانٹے
وہ جس کا پرچم کرتا ہے
ہر ایک زمانے پر سایہ
میں اس کے لئے سایہ ہوں
میں امالبنین۔۔۔
اے کاش میں جاتی کربوبلا
محشر میں نام جو ہوتا
اب سانسیں جب تک باقی ہے
مجھکو یہ رہے گا صدمہ
کیوں ساتھ علی کی بیٹی کے
بازو نہ رسن سے میرے بندھے
زہرا سے میں شرمندہ ہوں
میں امالبنین۔۔۔
ایک ماں جو دھوپ میں بیٹھی ہے
سایہ اس پر روتا ہے
جب دیکھتی ہوں اجڑی گودی
دل میرا لرز جاتا ہے
چلتے ہے میرے دل پر خنجر
ہے فضل کی ماں بھی بیوہ مگر
بانو کے لئے دکھیا ہوں
میں امالبنین۔۔۔
اے میر تکلم وہ بی بی
کہتی ہوگی یہ رو کر
غازی کے کٹے شانوں کی قسم
ہے قرض میری سانسوں پر
پیاسا گیا اصغر دنیا سے
یہ جب سے سنا ہے اس دن سے
میں پیاسوں کی سقہ ہوں
میں امالبنین۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.