Ruk jao mere bhai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Nasir Asghar Party
یہ دشتِ کربلا میں زینب کی تھی دہائی
رک جاؤ میرے بھائی مت جاؤ میرے بھائی
ہے لاکھوں عدو شمشیریں لیےء
اے بھای مجھے خوف آتا ہے
ایک ہوک سی اٹھتی ہے بھیا
دل میرا بہت گھبراتا ہے
رک جاؤ میرے بھائی۔۔۔
دریا کے کنارے قتل ہوی
سہہ روز کی پیاسی فوج خدا
اس دشت مصیبت میں بھیا
ہے کون بھلا مظلومہ کا
رک جاؤ میرے بھائی۔۔۔
اس دکھیا بہن کو اے بھای
پردیس میں کیوں تڑپاتے ہو
عباس گےء اکبر بھی گےء
اب تم بھی چھوڑے جاتے ہو
رک جاؤ میرے بھائی۔۔۔
جو کھینچے ہوئے ہے تلواریں
اے بھای یہی ہے وہ لشکر
جو تیر چلانے آیا تھا
میرے بھائی حسن کی میت پر
رک جاؤ میرے بھائی۔۔۔
اے بھای زرا دیکھو تو سہی
روتی ہے تڑپتی ہے کبرا
بابا سے بچھڑنے کا غم میں
مر جاۓ نہ قاسم کی بیوہ
رک جاؤ میرے بھائی۔۔۔
وہ خیمے کے در پہ بیٹھی ہوئی
معصوم سکینہ روتی ہے
ڈھونڈے گی بہت یہ بچی تمہیں
سینے پہ تمہارے سوتی ہے
رک جاؤ میرے بھائی۔۔۔
زخمی تھا بہت پر رک نہ سکا
مظلوم مسافر اے گوہر
مظلوم کی بہنیں در پہ کھڑی
کہتی ہی رہی یہ رو رو کر
رک جاؤ میرے بھائی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.