Mai maa hoo pyase
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Farhan Ali Waris
جب تڑپنے کی بھی طاقت رہی سرور کو
غل ہوا کہ غش آیا خلاف حیدر کو
اور پھر شمر بڑھا کھینچے ہوئے خنجر کو
سب سے کہتا تھا کہ کاٹوں گا سر سرور کو
منہ نہ میں دولت دنیا سے کبھی پھیروں گا
آج زہرا کے کلیجے پہ چھری پھیروں گا
آی صداے فاطمہ ترس اتنا تو کھا لے ظالم
میں ماں ہوں پیاسے حسین کی
نہ خنجر چلا اے ظالم اس کو پانی پلا دے ظالم
میں ماں ہوں پیاسے حسین کی
چومتے تھے پیمبر جسے وہ گلا
کیسے دیکھوں اسے زیر خنجر بھلا
جس کا کلمہ پڑھے یہ زمانہ
وہ محمد ہے اس کے نانا
میں ماں ہوں۔۔۔
اس کو مہمان بلا کر ستاتے ہو کیوں
میرے بچے پہ خنجر چلاتے ہو کیوں
ترس اتنا تو کھا اے ظالم
میرا دل نہ دکھا یا ظالم
میں ماں ہوں۔۔۔
کیسے پالا ہے اس کو تجھے کیا خبر
میرے ہاتھوں کے چھالے ہوئے نوحہ گر
کیسے دیکھوں بتا دے ستمگر
اپنے بچے کی گردن پہ خنجر
میں ماں ہوں۔۔۔
چکیاں پیس کر میں نے پال جسے
کیا بنا ہے یہ خنجر اسی کے لئے
قتل کرنا ہی ہے گر چہ تجھکو
دشت سے دور جانے دے مجھکو
میں ماں ہوں۔۔۔
اپنے پہلو میں اس کو سلاتی رہی
اس کی راہوں سے کانٹے ہٹاتی رہی
آج اس کے گلے پہ خنجر
کیسے دیکھوں بتا دے ستمگر
میں ماں ہوں۔۔۔
لوریاں اس کو دیتی تھی میں رات بھر
کتنی راتیں گزرتی ہے یوں جاگ کر
کب سے سوے نہی دلبر
بوجھ بس ہے یہی میرے دل پر
میں ماں ہوں۔۔۔
فاقے کر کر کے کھانا کھلایا جسے
پیاسی رہ رہ کے پانی پلایا جسے
آٹھ پہروں سے ہے آج پیاسا
کیسے دے دوں تجھے یا اثاثہ
میں ماں ہوں۔۔۔
ماں کی فریاد فرحان کیا ہو بیاں
چشمِ مظہر سے ہے خوں کا گجرا رواں
چل گیا ابنِ حیدر پہ خنجر
نوحہ کرتی رہی بن میں مادر
میں ماں ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.