Chal diye shabbir
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Rizwan Zaidi
چل دیےء شبیر یا رب سر کٹانے کے لئے
کون ہے اب چادر زینب کو بچانے کے لئے
آ کے یا عباس دیکھے بیکسی شبیر کی
آی زینب زین پر شاہ کو بٹھانے کے لئے
چل دیےء شبیر۔۔۔
چوم کر بازو کہا شبیر نے ہم تو چلے
تم رہو تیار زینب شام جانے کے لئے
چل دیےء شبیر۔۔۔
حشر تک دیوڑی پہ ماں کرتی رہے گی انتظار
بھیج کر بے شیر کو پانی پلانے کے لئے
چل دیےء شبیر۔۔۔
لاش اصغر گود میں ہے اور لاشوں پر نظر
شاہ کسے آواز دیں تربت بنانے کے لئے
چل دیےء شبیر۔۔۔
قبر اصغر خود بنا لے فاطمہ کے لال نے
گود میں جھولے کے عادی کو جھلانے کے لئے
چل دیےء شبیر۔۔۔
مل گےء حیدر کا دل ضبط حسن صبر حسین
گردن اصغر سے پیکاں کھینچ لانے کے لئے
چل دیےء شبیر۔۔۔
جن کی آمد سے بنا بت خانہ اے خانۂ خدا
رہ گیء اولاد ان کی قید خانے کے لئے
چل دیےء شبیر۔۔۔
کیوں رہے ظلمت میں ہم جب کے نثار اپنے حسین
نور کا مینار ہے سارے زمانے کے لئے
چل دیےء شبیر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.