Ammu bhi gaye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Nadeem Sarwar
جس دم جلے قیام شہنشاہِ بحرو بر
ایک بچی نکلی خیمے سے اس دم برہنہ سر
جلتا تھا دامن آگ سے کپڑے تھے خوں میں تر
مقتل کی سمت سرخ کیےء جاتی تھی نوحہ گر
سب رن میں جا کے رہ گےء تنہا ہمیں کیا
اعدا نے چھینی چادریں خیمہ جلا دیا
عمو بھی گےء بابا بھی گےء
تا حد نظر لاشے ہیں پڑے
باندھے حلقہ اعدا ہیں کھڑے
گھر جلتا ہے زر لوٹا ہے
وارث نہ رہے
عمو بھی گےء۔۔۔
لوٹا زیور چھینی چادر
ہے آل محمد ننگے سر
کرتے ہیں جفا ہم پر اعدا
کون اب رو کے
عمو بھی گےء۔۔۔
بر وقت پھپھی خیمے میں گیء
بستر ہی جلا بس خیر ہوی
تپ ہے ایسا غش میں بھیا
عابد ہے پڑے
عمو بھی گےء۔۔۔
دم گھٹتا ہے پھیلا ہے دھواں
اب جاے کہاں جو پاے اماں
ہے کون یہاں جو جا کے وہاں
قاسم سے کہے
عمو بھی گےء۔۔۔
اٹھارہ برس یوں پالا تھا
پردیس میں اکبر ہونگے جدا
سینہ کبھی کرتی ہے پھپھی
کر کے نالے
عمو بھی گےء۔۔۔
نالوں سے کلیجہ پھٹتا ہے
ایک درد سا دل میں اٹھتا ہے
ماں روتی ہے جاں کھوتی ہے
اصغر نہ رہے
عمو بھی گےء۔۔۔
وہ بین انیس ہو کیسے رقم
کرتی تھی سکینہ جو پر غم
وقتِ آخر اُس کے لب پر
نالے یہ رہے
عمو بھی گےء۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.