Zainab lipat gayi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Hadi Ali Khan Muslim
ارمان ہے یہ زینب عالی مقام کا
چہلم ہے کربلا میں شہ تشنہ کام کا
بھای کی قبر دیکھ کے آنسوں نکل پڑے
پیاسوں کی یاد آی تو دریا ابل پڑے
بھای کی قبر ہل گیء خواہر کے بین سے
زینب لپٹ گیء ہے مزار حسین سے
بھیا تمہارے بعد انوکھے ستم ہوئے
درے لگے رداییں چھنی خیمے جل گےء
بانو کے قلب کا وہ سہارا بھی جل گیا
ماں دیکھتی ہی رہ گیء جھولا بھی جل گیا
بھای کی قبر ہل گیء خواہر کے بین سے
زینب لپٹ گیء ہے۔۔۔
بھیا وہ رات کیسی قیامت کی رات تھی
أہل حرم پہ سخت مصیبت کی رات تھی
شانے کٹا کے میرا نگہبان سو گیا
عباس کا جو فرض تھا میں نے ادا کیا
بھای کی قبر ہل گیء خواہر کے بین سے
زینب لپٹ گیء ہے۔۔۔
آغاز کربلا سے ہمارا سفر ہوا
عابد کو دیکھ دیکھ کے ٹکڑے جگر ہوا
کوفے میں سر برہنہ جو آل عبا گےء
بابا ہر ایک قدم پہ مجھے یاد آ گےء
بھای کی قبر ہل گیء خواہر کے بین سے
زینب لپٹ گیء ہے۔۔۔
بھیا پھر اس کے بعد قیامت تھی آ گیء
کنبے کو لے کے شام میں میں بے ردا گیء
تاب نظر کہاں تھی مگر دیکھنا پڑا
طشت طلا میں آپ کا سر دیکھنا پڑا
بھای کی قبر ہل گیء خواہر کے بین سے
زینب لپٹ گیء ہے۔۔۔
بھیا تمہاری بیٹی پہ کیا کیا ستم ہوا
لیکن کبھی نہ صبر کا میعار کم ہوا
جب انتہاے ظلم ستمگار ہو گیء
آخر سکینہ شام کے زنداں میں سو گیء
بھای کی قبر ہل گیء خواہر کے بین سے
زینب لپٹ گیء ہے۔۔۔
چہلم کے بعد میں جو مدینے کو جاؤں گی
اماں کو میں سفر کی مصیبت سناؤں گی
گر ہو سکے تو نیل رسن کے دکھاؤں گی
میں زندگی تمام تیرا غم مناؤں گی
بھای کی قبر ہل گیء خواہر کے بین سے
زینب لپٹ گیء ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.