Shabbir ka chehlum
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Hadi Ali Khan Muslim
شبیر کا چہلم ہے شبیر کا چہلم ہے
زنداں کے الم سہہ کر جب وارث غم آے
کربل کی فضاؤں میں پابند ستم آے
فریاد و فغاں کرتے سب اہلِ حرم آے
زینب نے کہا اٹھو عباس کے ہم آے
شبیر کا چہلم ہے۔۔۔
پھر دختر زہرا پر آفت کی گھڑی آی
تھے شام کی راہوں میں ہر سمت تماشائی
اور طوق میں جکڑا تھا عابد کا گلا بھای
زینب نے کہا اٹھو عباس کے ہم آے
شبیر کا چہلم ہے۔۔۔
گالوں پہ سکینہ کے وہ نیل طمانچوں کے
زخمی تھا بدن اس کا دروں کی اذیت سے
ہر گام پہ کہتی تھی عمو ہے کہاں میرے
زینب نے کہا اٹھو عباس کے ہم آے
شبیر کا چہلم ہے۔۔۔
دربار وہ حاکم کا سر ننگے تیرا کنبہ
چادر کی عوض ہم نے بالوں سے کیا پردہ
بھیا تیری زینب کے بازو تھے رسن بستہ
زینب نے کہا اٹھو عباس کے ہم آے
شبیر کا چہلم ہے۔۔۔
روداد سفر کیسے صغرا کو سناؤں گی
ہے نیل جو بازو پر کس طرح چھپاؤں گی
پوچھے جو اگر تم کو کیا اس کو بتاؤں گی
زینب نے کہا اٹھو عباس کے ہم آے
شبیر کا چہلم ہے۔۔۔
احساس کی دنیا کا پر درد تھا وہ منظر
تھا حشر بپا آغا زینب کا بیاں سن کر
زنداں میں سکینہ کو کھو آی تیری خواہر
زینب نے کہا اٹھو عباس کے ہم آے
شبیر کا چہلم ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.