Chehlum karne aayi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Ameer Hasan Aamir
چہلم کرنے آئی ہے زینب
کربوبلا میں زنداں سے چھٹ کر
سر پر اوڑھے زخموں کی چادر
چہلم کرنے آئی ہے زینب
کربوبلا میں زنداں سے چھٹ کر
اٹھ کر دیکھو راج دلاروں
خاک نشیں قرآن کے پاروں
دل پہ لے کر داغ بہتر
چہلم کرنے آئی۔۔۔
رخ پہ اداسی چھائی ہوئی ہے
غم سے بہن گھبرائی ہوی ہے
اٹھو میرے اٹھارہ برادر
چہلم کرنے آئی۔۔۔
فرش بچھا دو لا کر رن میں
کھینچو قناعتیں آ کر بن میں
آؤ کہاں ہو قاسم و اکبر
چہلم کرنے آئی۔۔۔
اب نہ وطن میں جاؤں گی بھائی
رو رو یہی مر جاؤں گی بھائی
بن کے تیری تربت کی مجاور
چہلم کرنے آئی۔۔۔
دشت بلا میں حشر تھا اس دم
پہنچی ہے جس دم زینب پرنم
قبر جری پر گھٹنیوں چل کر
چہلم کرنے آئی۔۔۔
کیا میں بتاؤں شاہ مدینہ
مر گئی گھٹ کر بالی سکینہ
تیری امانت شام میں کھو کر
چہلم کرنے آئی۔۔۔
کاش تیری شادی جو رچاتی
پھولوں کا سہرا تجھکو پنہاتی
اٹھو میرے ہمشکل پیمبر
چہلم کرنے آئی۔۔۔
خاک پہ بیٹھی روتی تھی زینب
بین یہ رو کے کرتی تھی زینب
اپنے سروں پر کھا کر پتھر
چہلم کرنے آئی۔۔۔
تو نے جو عالم نوحہ لکھا ہے
عامر نے رو رو کے پڑھا ہے
اہلِ عزا روتے ہیں سن کر
چہلم کرنے آئی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.