Poochlo bazaar se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fizza (s.a) recited by Nasir Asghar Party
پوچھ لو بازار سے دربار سے زندان سے
کس طرح ترای فضہ ظلم کے طوفان سے
تازیانے جب برستے تھے امام وقت پر
بڑھکے خود سہتی تھی فضہ اپنی بوڑھی پشت پر
جاں امامت کی بچای اس نے اپنی جان سے
پوچھ لو بازار سے۔۔۔
جس طرح بازار میں جب نہ رہی وہ ہوش میں
چادر تطہیر بن کر لے لیا آغوش میں
زینب و کلثوم واقف ہے تیرے احسان سے
پوچھ لو بازار سے۔۔۔
پیٹ تھی زخمی بہت تو پیروں سے بہتا تھا خوں
ہر قدم پر ظلم سہہ کے کر دیا ثابت کہ کیوں
عمر لمبی مانگتی تھی دین کے سلطان سے
پوچھ لو بازار سے۔۔۔
واقف تطہیر خو تھی چاہے کہ رل جاے نہ
وہ بچاتی ہی رہی کہ خاک میں مل جاے نہ
سرخ موتی جو سکینہ کے گرے ہیں کان سے
پوچھ لو بازار سے۔۔۔
نام جب زینب کا آیا ہے نجس دربار میں
تو جلالت سے لرز کے بولی اس گفتار میں
کلمہ گو منکر ہوا ہے آج کیوں قرآن سے
پوچھ لو بازار سے۔۔۔
کوی مومن اس کی عظمت کو بھلا سمجھے کہاں
زینب و حسنین نے جس کو ہو سمجھا اپنی ماں
رتبہ ہے افضل سلامت بوزر و سلمان سے
پوچھ لو بازار سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.