Bhaiya kyun nahi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Ameer Hasan Aamir
پوچھ رہی ہے کربوبلا کے رستوں سے بیمار
بھیا کیوں نہیں آے
خون رلاتے ہیں مجھکو یثرب کے در و دیوار
بھیا کیوں نہیں آے
آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا چہرہ اکبر کا
ڈھونڈتی رہتی ہوں خوابوں میں سہرا اکبر کا
ٹوٹ کے روز بکھر جاتے ہیں آنسوؤں کے ہار
بھیا کیوں نہیں آے۔۔۔
جب سے فلک پر چاند نظر آیا ہے محرم کا
لگتا ہے مجھکو عرش بھی جیسے فرش ہو ماتم کا
چاند کے پیچھے جیسے چھپی ہو برچھی اور تلوار
بھیا کیوں نہیں آے۔۔۔
ہے یہ دعا اے مالک میرا باب الخیر سے ہو
غیر نہ لے سہرای درندے دلدل خیر سے ہو
اچھے نہیں حالات بھی شاید کوفے کے اس پار
بھیا کیوں نہیں آے۔۔۔
کیا ہوی آخر مجھ سے خطا معلوم تو ہو مجھکو
پای ہے کیوں فرقت کی سزا معلوم تو ہو مجھکو
روٹھ گیا مجبور بہن سے کیوں بیرن کا پیار
بھیا کیوں نہیں آے۔۔۔
خط بھیجا اور قاصد سے سندیس بھی کہہ لایا
پھر بھی مجھ برہن کا کسی کو دھیان نہیں آیا
بھول گیا پردیس میں جا کر مجھکو میرا پریوار
بھیا کیوں نہیں آے۔۔۔
ہار گیء میں قسمت کی تحریریں جیت گیء
راستہ تکتے تکتے دو دو عیدیں بیت گیء
ہو نہ سکا ہمشکل نبی کے چہرے کا دیدار
بھیا کیوں نہیں آے۔۔۔
کیسے بتاؤں کتنا کٹھن ہے ہجر کا غم بھیا
چومتی رہتی ہوں میں تیرے نقش قدم بھیا
ڈر ہے مٹ جائے نہ کہیں ان قدموں کے آثار
بھیا کیوں نہیں آے۔۔۔
میرے مالک پردیسی کنبے کی خیر
بہنوں کے ماؤں کے پھپھیوں کے پردے کی خیر
خواب میں میں نے دیکھے ہیں کچھ پتھر اور بازار
بھیا کیوں نہیں آے۔۔۔
دیکھ رہی ہوں نیزہ نیزہ چادر چادر خوں
بستی بستی سہرا سہرا پتھر پتھر خوں
شیشے میں جو خاک تھی وہ بھی ہو گیء خون کی دھار
بھیا کیوں نہیں آے۔۔۔
جیسے کسی برچھی کی چبھن محسوس ہو سینے میں
رونے لگتی ہے ایک بی بی اب بھی مدینے میں
سنتے ہی عامر کی زباں سے نیر کے اشعار
بھیا کیوں نہیں آے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.