Bahot akeli hoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Ameer Hasan Aamir
یہ بین کرتی تھی صغرا بہت اکیلی ہوں
سفر میں ہے میرا کنبہ بہت اکیلی ہوں
کوی بھی پاس نہیں ہے جو خیریت پوچھے
کہ دل کا حال ہے کیسا بہت اکیلی ہوں
یہ بین کرتی تھی۔۔۔
وہ دکھ سا دکھ ہے وطن ہاں ایسی ہی تنہائی
کوی نظر نہیں آتا بہت اکیلی ہوں
یہ بین کرتی تھی۔۔۔
گزار دیتی ہوں راتوں کی رات آنکھوں میں
نہ کوئی نیند نہ سپنا بہت اکیلی ہوں
یہ بین کرتی تھی۔۔۔
کوی ہنسی کوئی آہٹ نہ کوئی کلکاری
ہے بے صدا میرا ہجرہ بہت اکیلی ہوں
یہ بین کرتی تھی۔۔۔
بلند ہوتی تھی جس سے رسول کی آواز
نہ اب وہ لب نہ وہ لہجہ بہت اکیلی ہوں
یہ بین کرتی تھی۔۔۔
وہ انتظار ہے دھندھلا رہی ہے بینای
بھلا نہ دوں کوی چہرہ بہت اکیلی ہوں
یہ بین کرتی تھی۔۔۔
کوی نہیں جو گروں میں تو تھام لے بد کار
کہاں ہو میری سکینہ بہت اکیلی ہوں
یہ بین کرتی تھی۔۔۔
جو ٹوٹ جائے یہ دم بستر علالت پر
اٹھے گا کیسے جنازہ بہت اکیلی ہوں
یہ بین کرتی تھی۔۔۔
ہماری سوچوں کہ یثرب سے نیر و عامر
نہ مٹ سکے گا یہ نوحہ بہت اکیلی ہوں
یہ بین کرتی تھی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.