Haye bemaar chala
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Tableegh e Imamia
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے قافلہ سالار چلا
ہاے بیمار چلا
آ رہی ہے در و دیوار سے رونے کی صدا
ہاے بیمار چلا
ہاے جلتی ہے زمیں آگ اگلتی ہے زمیں
کوئی سایہ بھی نہیں
آبلے پڑ گےء پیروں میں بدن تپنے لگا
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
پیر کیا ہاتھوں پہ گردن پہ پڑے ہیں چھالے
کوی پانی ڈالے
تپتے ہیں طوق و سلاسل ہے بہت گرم ہوا
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
کانٹے چبھ جاتے ہیں چھالے کبھی چھل جاتے ہیں
ہاے دکھ پاتے ہیں
ہاے کس حال میں ابن شہ کربوبلا
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
آہ کرتے ہیں تو دروں کی سزا پاتے ہیں
یوں تڑپ جاتے ہیں
پا برہنہ یہ اذیت کا سفر اور یہ جفا
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
لوریاں دے کے جسے سلاتے تھے جسے شاہ امم
ہو گیا کیسا ستم
اب وہی نازوں کا پالا ہے گرفتار بلا
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
تازیانے کبھی مارے کبھی پتھر مارے
ہاے شہ کے پیارے
کس قدر زخمی مسافر پہ ہوی جور و جفا
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
چیخ اٹھتی ہے تو زخموں سے لہو بہتا ہے
ہر ستم سہتا ہے
کس سے فریاد کرے بھائی نہ بابا نہ چچا
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
شمر سے بالی سکینہ کو چھڑاے کیسے
جاں بچاے کیسے
ہتھکڑی ہاتھوں میں ہے طوق میں جکڑا ہے گلا
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
سر کھلے ماییں ہیں بہنیں ہیں ستمگاروں میں
ہاے بازاروں میں
سر جھکائے ہوئے روتا ہوا خود دار چلا
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
دیکھ کر بیٹے کی حالت کو تڑپ اٹھتی ہے ماں
یہ بھی ہوتا ہے گماں
آ نہ جائے کہیں بیمار کو رستے میں قضا
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
ہاے کس حال میں ہے سبط پیمبر کا پسر
خاک اڑاؤ گوہر
پیٹ کر سینہ و سر بین کرو اہل عزا
ہاے بیمار چلا
بیڑیاں پہنے ہوئے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.