Hai momino pe farz
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Tableegh e Imamia
ہے مومنوں پہ فرض عطاعت حسین کی
کربوبلا میں ظلم و جفا کا رواج تھا
سر پہ یزیدیت کے خلافت کا تاج تھا
شبیر کا لہو جو مسیحا مزاج تھا
ورنہ منافقت کا مرض لا علاج تھا
یوں کربلا میں فکر و نظر کی دوا ہوی
کربوبلا کی خاک بھی خاک شفا ہوی
ہے مومنوں پہ فرض۔۔۔
آے ہیں دین حق کے لئے کربلا حسین
سبط رسول لختِ دل مرتظی حسین
ہادی امام حق کے ولی رہنما حسین
تم کو پکارتے ہیں عزادار یا حسین
آنکھوں میں اپنی اشک عزا لے کے آے ہیں
دل میں شعور کربوبلا لے کے آئے ہیں
ہے مومنوں پہ فرض۔۔۔
یوں کربلا میں شہ نے بھرا گھر لٹا دیا
خود سو گےء تو دیں کا مقدر جگا دیا
چہرے سے اہل کفر کے پردہ ہٹا دیا
اصغر نے ہنس کے سارے جہاں کو رلا دیا
بے شیر میں اثر تھا علی کے شعور کا
اصغر نے ہنس کے توڑ دیا بت غرور کا
ہے مومنوں پہ فرض۔۔۔
بیڑی پہن کے عابد بیمار آے گا
اس راستے میں شام کا بازار آے گا
یہ ذکر بعد سید ابرار آے گا
جب طشت میں یہ سر سر دربار آے گا
زنداں میں شور ہوگا زمیں تھر تھراے گی
بابا کا نام لے کے سکینہ بلاے گی
ہے مومنوں پہ فرض۔۔۔
ہوگی ابھی تو شام غریباں کی داستاں
چھینے گا شمر بالی سکینہ کی بالیاں
بازار شام پہنچے گا لٹ کر یہ کارواں
قیدی بنے گی احمد مرسل کی بیٹیاں
باقی مصیبتیں ہے ابھی قید خانے کی
ان قیدیوں پہ ہونگی نگاہیں زمانے کی
ہے مومنوں پہ فرض۔۔۔
زہرا کا لال سبط رسول انام ہے
خنجر تلے بھی بخشش امت سے کام ہے
شبیر کا پیام خدا کا پیام ہے
مطلوب دو جہاں شہ عالی مقام ہے
پاتا رہا عروج یونہی غم حسین کا
لہرا رہا ہے آج بھی پرچم حسین کا
ہے مومنوں پہ فرض۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.