Hussain ghode se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Tableegh e Imamia
سنا یہ زینب نے شور لشکر
حسین گھوڑے سے گر چکے ہیں
گلوے شہ پر چلا وہ خنجر
حسین گھوڑے سے گر چکے ہیں
گھرو نہ اب قتل شاہ دیں سے
نہ اٹھ سکیں گے یہ اب زمیں سے
یونہی تڑپنے دو اب زمیں پر
حسین گھوڑے سے۔۔۔
نماز کی دو نہ ان کو مہلت
نہ ایک سجدے کی دو اجازت
اٹھاؤ خنجر قلم کرو سر
حسین گھوڑے سے۔۔۔
صدا دی زینب نے سوے دریا
مدد کو آجاؤ جلد بھیا
بچاؤ آقا کو اپنے آ کر
حسین گھوڑے سے۔۔۔
بدن تھا زخموں سے چور اتنا
محال گھوڑے پہ تھا سنبھلنا
تنہا ہے رن میں میرا برادر
حسین گھوڑے سے۔۔۔
اکیلے مقتل میں شاہ دیں ہے
اور ان کو گہرے ہوے لعیں ہے
کہاں ہو قاسم کہاں ہو اکبر
حسین گھوڑے سے۔۔۔
نہ کوئی شاہ امم کا وارث
نہ کوئی حرم کا وارث
نہ اب رہے گی سروں پہ چادر
حسین گھوڑے سے۔۔۔
اسیر ہم کو کریں گے اعدا
اور ہونگے بازار شام و کوفہ
پھریں گے ہم سر برہنہ در در
حسین گھوڑے سے۔۔۔
جو خون میں ڈوبے پڑے ہیں لاشے
وہ باوفا ناصران شہ کے
صداییں دیتے ہیں وہ بہتر
حسین گھوڑے سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.