Ghareeb baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Sajjad Mir
غریب بابا غریب بیٹی
وہ بے کفن تھا یہ بے ردا تھی
غریب بابا غریب بیٹی
طمانچے دونوں نے بن میں کھاے
ہے دونوں پہلو شکستہ ہاے
وہ ابنِ زہرا یہ زہرا جیسی
غریب بابا غریب بیٹی۔۔۔
مصلہ بابا کا یہ بچھاتی
حسین دیتے تھے اس کو لوری
یہ اسکی عادی وہ اسکی عادی
غریب بابا غریب بیٹی۔۔۔
تھا اسکو مارا رلا رلا کے
بہایا پانی اسے دکھا کے
تھا وہ بھی پیاسا ہے یہ بھی پیاسا
غریب بابا غریب بیٹی۔۔۔
ہوے جو خنجر کے وار شہ پر
کھڑی تھی پہلو میں انکی دختر
وہ جتنا تڑپے وہ اتنا روی
غریب بابا غریب بیٹی۔۔۔
یہ درے ظالم سے کھا رہی ہے
پدر کے سینے کو ڈھونڈتی ہے
وہ جب سے سویا یہ سو نہ پائی
غریب بابا غریب بیٹی۔۔۔
تھے زخم شبیر کے بدن پر
سکینہ کھاتی رہی ہے پتھر
تھا وہ بھی زخمی ہے یہ بھی زخمی
غریب بابا غریب بیٹی۔۔۔
سر اسکا صندوق میں رکھا ہے
رسن میں اسکا گلا بندھا ہے
سفر میں رہتے تھے دونوں قیدی
غریب بابا غریب بیٹی۔۔۔
نبھایا ہر ایک وعدہ جس نے
اٹھایا دونوں کا لاشہ جس نے
بہن تھی اسکی پھپھی تھی اس کی
غریب بابا غریب بیٹی۔۔۔
تھا میر سجاد کیسا لمحہ
جب اس کے بابا کا نام پوچھا
تو ہند سے رو کے بچی بولی
غریب بابا غریب بیٹی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.