Ghamzada sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Ali Mohd. Sultanpuri
غمزدہ سکینہ پڑھ رہی ہے نوحہ
ہاے میری غربت ہاے میری غربت
اتنے چھوٹے سن میں میں ہوی یتیمہ
ہاے میری غربت ہاے میری غربت
کمسنی میں کھا رہی ہوں در بدر کی ٹھوکر
میرے عمو جاں سو گےء نہر پہ جا کر
میرا قاسم نہ رہا میرا اکبر نہ رہا
کوئی مونس نہ رہا کوئی یاور نہ رہا
شمر آ رہا ہے لے کے تازیانہ
ہاے میری غربت۔۔۔
غمزدہ سکینہ۔۔۔
جو بھی آ رہا ہے مارتا ہے تازیانے
کون ہے جو آے گا سکینہ کو بچانے
جس پہ تھا بھروسہ جب وہی نہ آیا
ہاے میری غربت۔۔۔
غمزدہ سکینہ۔۔۔
میرا چھ مہینے والا بھای بچ نہ پایا
ہاے ظالموں نے اس کو مار ڈالا پیاسا
میرا قاسم نہ رہا میرا اکبر نہ رہا
کوئی مونس نہ رہا کوئی یاور نہ رہا
کس طرح بھولوں بے زباں کا چہرہ
ہاے میری غربت۔۔۔
غمزدہ سکینہ۔۔۔
میرے باپ کا گلا کٹا ہے میرے آگے
ایک دن میں میرا گھر لٹا ہے میرے آگے
میرا قاسم نہ رہا میرا اکبر نہ رہا
کوئی مونس نہ رہا کوئی یاور نہ رہا
مجھکو بد نصیبی نے یہ دن دکھایا
ہاے میری غربت۔۔۔
غمزدہ سکینہ۔۔۔
اے جہاں والوں اس کو چین کیسے آے
جس کا باپ رن میں بھوکا پیاسا مارا جائے
میرا قاسم نہ رہا میرا اکبر نہ رہا
کوئی مونس نہ رہا کوئی یاور نہ رہا
پھٹ رہا ہے غم سے اب میرا کلیجہ
ہاے میری غربت۔۔۔
غمزدہ سکینہ۔۔۔
چادریں بھی چھین کر کے لے گےء ستمگر
آل مصطفیٰ کو مارے جا رہے ہیں پتھر
میرا قاسم نہ رہا میرا اکبر نہ رہا
کوئی مونس نہ رہا کوئی یاور نہ رہا
خوں میں تر بہ تر ہے آج میرا کنبہ
ہاے میری غربت۔۔۔
غمزدہ سکینہ۔۔۔
آج بھی سنائی دے رہی ہے وہ کراہیں
دختر حسین کی وہ درد ناک آہیں
میرا قاسم نہ رہا میرا اکبر نہ رہا
کوئی مونس نہ رہا کوئی یاور نہ رہا
گونجتا ہے وایض آج بھی یہ نوحہ
ہاے میری غربت۔۔۔
غمزدہ سکینہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.