Gham ki maari
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nasir Zaidi
غم کی ماری یہ بولی سکینہ
کوی اب تو نہیں ہاے اپنا
اب نہ قاسم رہے ہیں نہ بھیا
اب نہ عمو رہے ہیں نہ بابا
کس کو آواز دوں میں خدایا
غم کی ماری۔۔۔
پانی لینے کو دریا کنارے
میرے عمو یہاں سے سدھارے
دم بھی گھٹنے لگا غم کے مارے
اب تو دو بھر ہوا سانس لینا
غم کی ماری۔۔۔
جھولا اصغر کا خالی پڑا ہے
میری اماں کو غش آ گیا ہے
ہاتھ جھولے پہ انکا دھرا ہے
کوی آ کر خدارا اٹھانا
غم کی ماری۔۔۔
بھیا عابد بھی غش میں پڑا ہے
وہی اس وقت سب سے بڑا ہے
انکے چاروں طرف سب کھڑے ہیں
انکے ماتھے پہ بھی ہے پسینہ
غم کی ماری۔۔۔
بابا جانے کو آے ہیں دیکھو
کچھ بتانے کو آے ہیں دیکھو
کیا سنانے کو آے ہیں دیکھو
اب تو مشکل ہوا میرا جینا
غم کی ماری۔۔۔
دکھ پہ دکھ ظالموں نے دیےء ہیں
شمر نے میرے بوندیں لیےء ہیں
کان میرے وہ زخمی کیےء ہیں
ہاے رکتا نہیں خون بہنا
غم کی ماری۔۔۔
رسیاں کب یہ آخر کھلیں گی
سختیاں ظلم کی کب رکیں گی
سیلیاں یوں ہی پڑتی رہیں گی
میری اماں سے جا کر یہ کہنا
غم کی ماری۔۔۔
قید میں کیا صدا ہم رہیں گے
ظلم کب تک یہ آخر سہینگے
ایسا لگتا ہے اب ہم مریں گے
ہوا ہر گز نہ صغرا سے ملنا
غم کی ماری۔۔۔
اب بھی توقیر زیدی یہ سن لو
ایک بچی یہ کہتی ہے رو رو
قید خانے سے مجھکو چھڑا دو
میرے عمو کو جا کر یہ کہنا
غم کی ماری۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.