Chale aao baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Irfan Haider
چلے آؤ بابا
سناتی ہے مجھکو پھپھی جاں کہانی
کروں کیا مگر نیند آتی نہیں ہے
چلے آؤ بابا چلے آؤ بابا
مجھے خاک پر نیند آتی نہیں ہے
کلیجے میں اٹھتا ہے ایک درد ایسا
کہ جس کے لئے نہ دوا نہ دلاسہ
میں کل تک تو سینے پہ سوتی تھی بابا
یہی سوچ کر نیند آتی نہیں ہے
چلے آؤ بابا۔۔۔
ہوا کیوں نہ جانے ستمگر زمانہ
کبھی گھڑکیاں دے کبھی تازیانہ
یہی خوف ہے جو ستاتا ہے مجھکو
اسی بات پر نیند آتی نہیں ہے
چلے آؤ بابا۔۔۔
رلاتی ہے مجھکو لعینوں کی باتیں
گزرتی ہے ایسے یتیمی کی راتیں
کہیں شمر آ کر طمانچے نہ مارے
ہے دل میں یہ ڈر نیند آتی نہیں ہے
چلے آؤ بابا۔۔۔
خبر ہے یہ مجھکو خطا میری کیا ہے
یہی نہ کہ جد میرا مشکل کشاء ہے
سناے وہ مشکل کشاء مجھکو لوری
انہیں دو خبر نیند آتی نہیں ہے
چلے آؤ بابا۔۔۔
یتیمی کا احساس ہی ایک ستم ہے
مسلسل تڑپنے سے ہونٹوں پہ دم ہے
اگر اب یہ زندان ہی گھر ہے میرا
چلے آؤ گھر نیند آتی نہیں ہے
چلے آؤ بابا۔۔۔
کبھی میں نے سوچا نہیں تھا یہ بابا
کہ تم سے بچھڑ کر بھی جینا پڑے گا
تمہارے بنا ہی مجھے اب ہے جینا
یہی جان کر نیند آتی نہیں ہے
چلے آؤ بابا۔۔۔
پھپھی جاں سے اکثر سنا ہے یہ نوحہ
تڑپتا ہے بن میں شہ دیں کا لاشہ
میرے پاس آ جاؤ مقتل سے بابا
تمہیں بھی اگر نیند آتی نہیں ہے
چلے آؤ بابا۔۔۔
مصایب نے یہ حال سب کا کیا ہے
کہ دن رات ماتم ہے آہ و بکا ہے
پھپھی ہو کہ سجاد ہو یا سکینہ
کسی کو ادھر نیند آتی نہیں ہے
چلے آؤ بابا۔۔۔
یہ عرفان و مظہر کے دل کی صدا ہے
جہاں شاہزادی کا مدفن بنا ہے
ہے جس نے بھی دیکھا ستم کا وہ زنداں
اسے عمر بھر نیند آتی نہیں ہے
چلے آؤ بابا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.