Bulao apne ammu
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Ali Mohd. Sultanpuri
مار کر رخ پر طمانچے بولا شمر بے حیا
اے سکینہ اب بلاؤ اپنے عمو جاں کو
چاہتے ہیں وہ تمہیں کتنا میں دیکھوں تو زرا
اے سکینہ اب بلاؤ اپنے عمو جاں کو
بال بچی کے پکڑ کر کھینچ کر دونوں گوہر
بد نصب کہنے لگا رخ پر طمانچے مار کر
کیوں نہیں کچھ بولتی سر کیوں تمہارا ہے جھکا
اے سکینہ اب بلاؤ۔۔۔
دونوں ہاتھوں سے طمانچے مارتا تھا بے رحم
کر رہا تھا بے جھجھک بیکس یتیمہ پر ستم
ہر طمانچے پر یہ کہتا تھا چچا کو دو صدا
اے سکینہ اب بلاؤ۔۔۔
ناز تھا تم کو بہت جس پر اسے آواز دو
جاؤ دریا کی طرف جا کر اسے آواز دو
اپنے دل کا درد بتلاؤ اسے جا کر زرا
اے سکینہ اب بلاؤ۔۔۔
مارتا ہوں میں تمہیں کوئی بچاتا کیوں نہیں
جان جو تم پر لٹاتا تھا وہ آتا کیوں نہیں
ہو گیا کیا اب تمہارا چاہنے والا خفا
اے سکینہ اب بلاؤ۔۔۔
میں تمہیں ماروں گا درے اور طمانچے تب تلک
تم تڑپ کر پڑھ نہیں دوگی یہ نوحہ جب تلک
میں بہت مشکل میں ہوں امداد کو آؤ چچا
اے سکینہ اب بلاؤ۔۔۔
تھا قیامت خیز درد انگیز وہ منظر عجیب
لایا بچی کو لعیں عباس کے سر کے قریب
کس کے پھر رسی گلے کی بے رحم کہنے لگا
اے سکینہ اب بلاؤ۔۔۔
اس گھڑی سر پیٹ کر روے بہت اہلِ حرم
جب کہا ظالم نے دکھلا کر کے غازی کا علم
یہ علم تو ہے کہاں ہے اب علمدار وفا
اے سکینہ اب بلاؤ۔۔۔
رو رہی تھی دختر شبیر وایض زار زار
اے علی تھے درد سے اہلِ حرم سب بیقرار
کربلا سے شام تک شمر لعیں کہتا گیا
اے سکینہ اب بلاؤ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.