Bhool paayi sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Farhan Ali Waris
تنہائییاں سرغوشیاں
ہاں سکینہ کی ہے یہ فغاں
میری گردن میں باندھی گئی رسیاں
میرے کانوں سے نوچی گیء بالیاں
خون بہتا رہا درد بڑھتا رہا
تازیانے لعینوں کے اور وہ جفا
بھول پایء سکینہ کہاں
مجھ کو کانٹوں پہ پیدل چلایا گیا
باپ کا سر دکھا کر رلایا گیا
تھا وہ کیسا سفر بیبیاں ننگے سر
ایک اک زخم سے خون بہتا رہا
...بھول پایء
میں جو رویء تو مجھ کو طمانچے لگے
تھک کے سویء تو عابد کو درے لگے
بیچ بازار میں شہر اغیار میں
ہاے سادات کا جو تماشہ بنا
...بھول پایء
بولا دربار میں آکے یوں اک شقی
تو کنیزی میں جا حاکم وقت کی
کیسا لمحہ تھا وہ کیسا صدمہ تھا وہ
روکے اس دم پکاری میں ہاے چچا
...بھول پایء
میرے بابا کا سر طشت میں تھا رکھا
اس سے گستاخیاں کرتے تھے اشقیاء
کوئی حامی نہ تھا کس کو دیتی صدا
ایک غیور بیٹی کو غیض آگیا
...بھول پایء
راہ میں پانی آتا میسر اگر
ڈال دیتی تھی عابد کی زنجیر پر
ہر قدم اک جفا رونا بھی جرم تھا
درمیاں شامیوں کے تھی آل عبا
...بھول پایء
پوچھا حاکم نے دربار میں شمر سے
ان اسیروں میں بنت علی کون ہے
رو رہی تھی پھپھی تھی وہ کییسی گھڑی
نام پھپیوں کا لیتا تھا وہ بے حیا
...بھول پایء
دل پہ پتھر رکھا اور جیتی رہی
تازیانے لعینوں کے سہتی رہی
دشمنوں کا وطن میں اسیری محن
جس جگہ ایک لمحہ تھا اک سال سا
...بھول پایء
کم سنی اور اسیری وہ زندان کی
جس جگہ موت بھی آکے رونے لگی
یاد نشتر بنی خاک بستر بنی
پھر یہ زندان میری لحد بن گیا
...بھول پایء
ایک پیغام ہے زاءیروں کو یہیں
شب کو بی بی کے روضے پہ جاوء کبھی
رورہی ہے وہاں اب بھی تنہائیاں
سن کے آے ہیں فرحان و مظہر صدا
...بھول پایء
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.