Bhaiya ye sitam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Ali Mohd. Sultanpuri
زندان ستم میں کہتی تھی
عابد سے سکینہ رو رو کر
بھیا یہ ستم کب تک ہونگے
اتنا تو بتا دو اے بھای
کیا اب نہ میسر ہو گا گھر
بھیا یہ ستم کب تک ہونگے
افسوس کی ایسی منزل پر
تقدیر ہمیں لے آی ہے
ایک دن میں لٹا ہے سارا گھر
اب چاروں طرف تنہائی ہے
کیا کوئی ترس نہ کھاے گا
پردیس میں آل احمد پر
بھیا یہ ستم۔۔۔
یہ کتنا بھیانک زنداں ہے
دل میرا بہت گھبراتا ہے
میں کانپنے لگتی ہوں اس دم
جب شمر لعیں آ جاتا ہے
سانسیں بھی میری رک جاتی ہے
اس ظالم کی گھڑکی سن کر
بھیا یہ ستم۔۔۔
جس وقت بسیروں کی جانب
اڑ اڑ کے پرندے جاتے ہیں
اس وقت مجھے اپنے گھر کے
دیوار و در یاد آتے ہیں
مجھ سے تو پرندے اچھے ہیں
وہ جب چاہے تب جاے گھر
بھیا یہ ستم۔۔۔
میں کربوبلا سے قید تلک
جب روی گھٹ گھٹ کر روی
اور گیارہ محرم سے اب تک
ایک پل کے لئے بھی نہ سوی
نیند آی تھی عاشور کے دن
بس بابا جاں کے سینے پر
بھیا یہ ستم۔۔۔
ہر وقت مجھے میرے بھائی
اس بات کا رہتا ہے صدمہ
چھ ماہ کا تھا میرا بھیا
اس کو بھی لعینوں نے مارا
رونے بھی نہیں دیتے ظالم
میرے ششماہے بھائی پر
بھیا یہ ستم۔۔۔
لگتا ہے کہ اب اس زندان میں
میں گھٹ گھٹ کر مر جاؤں گی
قسمت میں نہیں ہے گھر جانا
صغرا سے بھی مل نہ پاؤں گی
یاد آتی ہے مجھکو اب ہر پل
بیمار میری پیاری خواہر
بھیا یہ ستم۔۔۔
میں چار برس کی ہوں لیکن
ہر ظلم و ستم مجھ پہ ٹوٹا
جتنا بھی لعینوں نے چاہا
بن باپ کی بچی کو مارا
کیا چین ستمگر پاییں گے
بھای میرے مر جانے پر
بھیا یہ ستم۔۔۔
اس وقت بہت روے عابد
بہنا سے لپٹ کر اے وائض
یہ کہنے لگی جب رو رو کر
شبیر کی دختر اے وائض
جب آپ کو لگتے ہے درے
چلتا ہے میرے دل پر خنجر
بھیا یہ ستم۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.