Baliyan shaam talak
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Irfan Hussain
افسوس صد افسوس سکینہ قیدی ہے
ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پیروں میں بیڑیاں
اور کانوں سے بالیاں چھینی گیء
بالیوں نے دی صدا کاش ہم ٹوٹے جاتے
تو شہزادی کی لاوے بچ جاتی
معاف کرنا شہزادی معاف کرنا شہزادی
بالیاں شام تلک دیتی رہی اک صدا
ٹوٹتے ہم سکینہ کی لاوا بچ جاتی
ہاے اک سال تلک زخم نہ رہتا تازہ
ٹوٹتے ہم تو سکینہ کی لاوا بچ جاتی
ننھے رخسار ہیں اور شمر کا پنجہ ہے بڑا
انگلیاں کانوں کے زخموں کو جو کرتی ہے ہرا
کسی صورت میں بھی کانوں سے لہو رک جاتا
بالیاں شام تلک۔۔۔
جس کو معلوم نہیں تھا کہ یتیمی کیا ہے
پوچھتی رہ گیء بھیا یہ یتیمی کیا ہے
بھای جاں کھول دو کیونکر ہے میرا ہاتھ بندھا
بالیاں شام تلک۔۔۔
کان زخمی ہیں گلا زخمی ہے زخمی ہے ہاتھ
ایسا ہوتا ہی نہیں ہاے یتیموں کے ساتھ
بچنے پای نہیں اس بی بی بی کی ننھی سی ردا
بالیاں شام تلک۔۔۔
کوئی صدقے کی کھجوریں اسے دکھلاتا ہے
کھولتا پانی کوی چھت سے گرا دیتا ہے
ظلم اس درجہ ہوے کیسے رہی یہ زندہ
بالیاں شام تلک۔۔۔
پشت ناقہ پہ بٹھایا نہیں سلوایا گیا
اور ایک رسی سے پھر ننھا بدن باندھا گیا
اشقیا ہنستے ہیں چلاتی ہے جب یہ دکھیا
بالیاں شام تلک۔۔۔
آنکھیں شبیر کا سر کھول کے یہ کہتا ہے
بیٹی کیوں پھول سا رخسار تیرا نیل ہے
تیرے کانوں کی لو سے ہے لہو کیوں بہتا
بالیاں شام تلک۔۔۔
بچی عرفان و مبارک جونہی خاموش ہوی
سمجھے سجاد کے خواہر میری بے ہوش ہوی
شانہ زینب نے ہلایا تو نہ زندہ پایا
ٹوٹتے ہم تو سکینہ کی لاوے بچ جاتی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.