Bahot ro chuki hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Farhan Ali Waris
خاموشیوں سے ہی پوچھو
ان آنسوؤں سے ہی پوچھو
بڑے ظلم راہوں میں سہتی رہی ہے
یتیمی كے تعنے یہ سہتی رہی ہے
نہیں مار ظالم طمانچے اسے
نہ کر اس کا دشوار جینا
بہت رو چکی ہے سكینہ
سفر میں یہ سوئی نہ زندان آکر
اجالا کیا ہے یہاں دِل جلا کر
پدر سے جو بچھڑی ہے عاشور کو
سکون پا سکی پِھر کبھی نہ
بہت رو چکی ہے۔۔۔
ملا دشت میں جب كہ بابا کا لاشہ
لپٹ كے پدر سے کیا خوب گریا
وہاں پہنچی زینب تو شہہ نے کہا
سلا دو اسے جا كے بہنا
بہت رو چکی ہے۔۔۔
رسن دے گئی ہے نشانی گلے پر
ہے پیشانی زخمی جو کھائے تھے پتھر
نشان ہیں تمانچوں كے رخسار پر
مصائب سے زخمی ہے سینہ
بہت رو چکی ہے۔۔۔
کبھی اپنے بابا كے قاتل سے ڈر کر
کبھی روئی زندان میں تنہائیوں پر
کبھی بولی زینب سے اب گھر چلو
ہوا اک برس اک مہینہ
بہت رو چکی ہے۔۔۔
ہو مقتل کا بازار یا قید خانہ
صدا دے کے بابا سے کہتی تھی دکھیا
یتیمی ملی تو ملے ایسے غم
کہیں چین سے جی سکی نہ
بہت رو چکی ہے۔۔۔
قیامت کی اک رات ایسی بھی آئی
قضا نے سكینہ کو لوری سنائی
کہا روکے سجاد نے اے پھوپھی
كہ اب روئےگی پِھر کبھی نا
بہت رو چکی ہے۔۔۔
جو قبرِ سكینہ پہ روتے تھے قیدی
تو ان رونے والوں سے بانو یہ کہتی
ابھی تھک كے سوئی ہے زندان میں
جگانا اسے اب کوئی نا
بہت رو چکی ہے۔۔۔
یہ کہتا ہے فرحان سے روکے مظہر
جو قبر سكینہ پہ جانا برادر
وہاں مرثیہ جاکے پڑھنا یہی
بہت رو چکی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.