Bahot gham milay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Safdar Abbas
بہت غم ملے بابا جاں
زندان میں بابا کا سر جو ملا
بالی سکینہ نے نوحہ کیا
پردیس میں ہوگیءبے امان
بہت غم ملے بابا جاں
کیا کیا نہ ڈھاے ستم اشقیاء نے
کھاتی رہی بی بیاں تازیانے
تھی ایک رسن اور بارہ گلے
میں قد میں چھوٹی سب تھے بڑے
گھٹوں پہ میں میلوں چلی بی بیاں
بہت غم ملے۔۔۔
شام غریباں کا غمناک منظر
خیمے ہمارے تھے شعلوں کی ضد پر
بستر جلا بھای سجاد کا
گہوارہء بے زباں بھی جلا
منظر تھا وہ الحفیظ و الامان
بہت غم ملے۔۔۔
جب بن میں آی گیارہ محرم
بابا تھا مجھ پر اسیری کا عالم
پھر میرے دل پر ستم یہ ہوا
نیزے پہ سر آپ کا آ گیا
آنکھوں سے خونِ جگر تھا رواں
بہت غم ملے۔۔۔
مجھکو طمانچے ستمگر نے مارے
سجاد کھاتا رہا تازیانے
تشنہ لبی اور سفر کی تھکن
کرتے بھی کیا دونوں بھائی بہن
کرتے رہے صبر کا امتحان
بہت غم ملے۔۔۔
پھر کان زخمی کرتہ جلا تھا
چھالے زباں پر سوکھا گلا تھا
سوتی تو سونے نہ دیتے زرا
روی تو رونے پہ پہرا لگا
مجھ پر ہوی ہے بڑی سختیاں
بہت غم ملے۔۔۔
تھا یہ تقاضہ انکی وفا کا
غم مجھ سے پوچھو میرے چچا کا
دیکھے جو پھپھیوں کے سر بے ردا
نیزے سے عمو کا سر گر گیا
ہے یاد وہ شور آہ و فغاں
بہت غم ملے۔۔۔
ہاں میرے بابا ہے یاد اب بھی
جب پشت ناقہ سے میں گر گیء تھی
تم سے بچھڑ کر میں سوتی نہ تھی
آغوش زہرا میں نیند آ گیء
بعد اسکے پھر نیند آی کہاں
بہت غم ملے۔۔۔
بالوں پہ میرے جو ہے سفیدی
غم کی فضاییں دیکھی ہے ایسی
نوحوں کا کمسن صحیفہ ہوں میں
اک چار سالہ ضعیفہ ہوں میں
خم ہے کمر میرے مثل کماں
بہت غم ملے۔۔۔
نوحہ جو لکھا حمید عابدی نے
لکھوایا شبیر کی لاڈلی نے
نوحوں سے صفدر کی پہچان ہے
بالی سکینہ کا احسان ہے
جو آج نوحہ ہے ورد زباں
بہت غم ملے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.