Bahot diler thay ammu
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Raza Abbas Zaidi
خیال آتا ہے وہ وقت کیا رہا ہو گا
اسیر قافلہ دربار جب گیا ہو گا
یزید تخت پہ بیٹی کو گود میں لے کر
سوے سکینہ تکبر سے دیکھتا ہو گا
سوال بیٹی نے معلوم کی کیا ہو گا
یہ جس کا نام سکینہ ہے کون ہے بابا
لہو ہے کانوں سے جاری پھٹا ہوا کرتہ
کہا یزید نے بیٹی سے پوچھ لے خود ہی
سکینہ بولی خبردار تو اگر بولی
میں سکینہ ہوں محمد کی میں نواسی ہوں
مجھے یہ یاد نہیں کتنے دن کی پیاسی ہوں
مت کر کوئی سوال نہ پوچھ میرا حال
وطن سے دور بھی شیروں کے شیر ہے عمو
بہت دلیر تھے عمو بہت دلیر تھے عمو
یہ میرا حال جو اس وقت دیکھتی ہے تو
سبب ہے اس کا تیرا باپ سن رہی ہے تو
اسی نے کنبے کو میرے بلا کے لوٹا ہے
اسی نے میرے چچا کا بھی سر اتارا ہے
میرے چچا کو ہزاروں نے مل کے مارا ہے
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
اکیلا جان کے نو لاکھ لشکری اس کے
سگے نہ جس کی طرح ہاے ان پہ ٹوٹ پڑے
کسی نے گرز لگایا کسی نے تلواریں
بغیر تیغ لڑے وہ فلک نے دیکھا ہے
لب فرات ابھی تک علم چچا کا ہے
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
جگر کو تھام کے بنت یزید سن میری بات
میرے چچا سے تیرا باپ لے سکا نہ فرات
اگرچہ دھوکے سے کاٹے گےء چچا کا ہاتھ
یہ بزدلی ہے ہمیں قید کر کے لایا ہے
ہر ایک لشکری تیرے پدر کا کہتا ہے
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
تو میرے کانوں سے بہتے لہو کو پونچتی ہے
نہ کیسے پوچھے گی بیٹی تو تو یزید کی ہے
یہ خوں یہ کرتہ یہ میرے گلے میں رسن
چچا کے بعد ستم اسنے مجھپے ڈھایا ہے
شہید ہو کے بھی باقی بھرم چچا کا ہے
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
تو میری شان مدینے میں دیکھ لیتی اگر
ملا نہ سکتی تھی میری کنیز سے تو نظر
یہ تیرا باپ جو بیٹھا ہے تخت شاہی پر
یہ اس نے بھیک میں سادات ہی سے پایا ہے
یزید نام پہ غازی کے چونک جاتا ہے
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
چچا کے ہوتے کسی کی بھی یہ مجال نہ تھی
میری پھپھی کے گلے میں جو باندھتا رسی
میری طرف کوئی کیا دیکھتا نظر بھر کر
چچا کے بعد طمانچہ بھی میں نے کھایا ہے
یہاں بھی ہے انہیں بابا نے روک رکھا ہے
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
غلام زادی ہے تو میں تو شاہزادی ہوں
جھلاے حوریں میرا جھولا اس کی عادی ہوں
جنابِ زہرا کی چادر کے ساے میں ہوں پلی
یزید باندھ کے ناقے پہ مجھکو لایا ہے
اب ان کے سر سے بھی نظریں چراے پھرتا ہے
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
چچا تو سنگ سے پانی نچوڑ سکتے تھے
وہ علقمہ کو میری سمت موڑ سکتے تھے
انہیں تو اذن وغا ہی نہ دیا بابا نے
شہید ہو کے بھی غازی لقب انہیں کا ہے
بھلا یہ مرتبہ کس نے جہاں میں پایا ہے
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
یزید ان کے کٹے سر سے خوف کھاتا ہے
وہ دیکھ چکے غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہے
وہ دن بھی آے گا نفرت کرے گی باپ سے تو
میرا چچا میرا بابا امام زادہ ہے
یزید انکی تو نالین سے بھی چھوٹا ہے
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
جمی ہے پیاس لبوں پر یہ امتحانی ہے
مہر میں دادی کے دونوں جہاں کا پانی ہے
ہمارے دادا کو کہتے ہیں ثاقیء کوثر
لقب بہشت کا میرے چچا نے پایا ہے
اگر وہ چاہے تو پانی برس بھی سکتا ہے
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
یہ سن کے اشک جو بنت یزید کے ٹپکے
اتر کے باپ کی گودی سے معزرت کر کے
کہا سکینہ سے میں بھی کنیز آپ کی ہوں
جو حکم ہو تو کہوں میں بھی دل یہ کہتا ہے
کہا سکینہ دل تیرا میرے دل سا ہے
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
یہ جنگ جیتی ریحان و رضا سکینہ نے
عجیب شاہ نے حملہ کیا سکینہ نے
علی کی پوتی تھی عباس کی بھتیجی تھی
لب سکینہ سے نکلی وہ بات زندہ ہے
لحد پہ بالی سکینہ کے اب بھی لکھا
بہت دلیر تھے عمو۔۔۔
وطن سے دور بھی۔۔۔
ننھی سی لحد شام میں موجود ہے لوگوں
معصوم کی للکار نے زنداں نہیں چھوڑا
لگتا ہے کہ سیدانیوں سے سکینہ کی فغاں نے
عباس کے قاتل کا گریباں نہیں چھوڑا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.