Baba tera ek shab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Shadman Raza
بیٹی سے کہا شہ نے میری جان سکینہ
بابا تیرا ایک شب کا ہے مہمان سکینہ
عاشور کی غربت میں اسیری کا سفر میں
بے رحم زمانے میں رہے بعد پدر کے
ہر گام خدا تیرا نگہبان سکینہ
بابا تیرا ایک شب۔۔۔
بیٹی سے کہا شہ نے۔۔۔
پتھر بھی طمانچے کبھی درہ بھی لگے گا
بدلے گا کیء رنگ تیرا پھول سا چہرہ
ہاں دور یتیمی نہیں آسان سکینہ
بابا تیرا ایک شب۔۔۔
بیٹی سے کہا شہ نے۔۔۔
میں آپ کی آغوش میں چھپ جاؤں گی بابا
اور اکبر و عباس کو بلواوں گی بابا
تنہا تو نہ ہوگی سر میدان سکینہ
بابا تیرا ایک شب۔۔۔
بیٹی سے کہا شہ نے۔۔۔
مقتل میں نہ کوزہ لیےء خالی چلی آنا
عباس کو رو رو کے نہ دریا سے بلانا
ہو جائیں گے شرمندہ چچا جان سکینہ
بابا تیرا ایک شب۔۔۔
بیٹی سے کہا شہ نے۔۔۔
بابا تیرا قاتل کیا مسلمان نہیں ہے
کیا یاد نبی کا اسے فرمان نہیں ہے
شبیر کی باتوں پہ ہے حیران سکینہ
بابا تیرا ایک شب۔۔۔
بیٹی سے کہا شہ نے۔۔۔
جل جائے گا گھر بار تو گھبراؤ گی بی بی
کل شب کہیں بابا کو نہ تم پاؤ گی بی بی
نہ رحم کریں گے یہ مسلمان سکینہ
بابا تیرا ایک شب۔۔۔
بیٹی سے کہا شہ نے۔۔۔
جن بچوں کے جل جاتے ہیں گھر سوتے ہیں کیسے
مر جائے جو گر باپ تو پھر روتے ہیں کیسے
بتلاؤ نہ بابا کہ ہے نادان سکینہ
بابا تیرا ایک شب۔۔۔
بیٹی سے کہا شہ نے۔۔۔
کانوں کے تیرے زخم تجھے سونے نہ دیں گے
ظالم میرے لاشے پہ تجھے رونے نہ دیں گے
ترسے گی تو رونے کو میری جان سکینہ
بابا تیرا ایک شب۔۔۔
بیٹی سے کہا شہ نے۔۔۔
سونے کی تیرے سینے پہ ضد چھوڑ کے بابا
سو جاے گی زنداں کی زمیں اوڑھ کے بابا
ہو جائے گی اسلام پہ قربان سکینہ
بابا تیرا ایک شب۔۔۔
بیٹی سے کہا شہ نے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.