Baba ka sar sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Irfan Hussain
بابا کا سر سکینہ آغوش میں اٹھا کے
فریاد کر رہی ہے رودادِ غم سنا کے
شمر لعیں نے مجھ پر کیا کیا ستم ہیں ڈھاے
لیکن میری مدد کو افسوس تم نہ آے
پانی کو پھینکتا تھا ظالم دکھا دکھا کے
بابا کا سر سکینہ۔۔۔
بن پردہ ظالموں نے بازار سے گزارا
میں نے تڑپ تڑپ کے تم کو بہت پکارا
گزری ہوں راستوں سے بالوں سے منہ کو چھپا کے
بابا کا سر سکینہ۔۔۔
شمر لعیں طمانچے جب میرے مارتا تھا
ننھا سا دل تڑپ کے تم کو پکارتا تھا
روتے تھے ہر قدم پر سجاد سر جھکا کے
بابا کا سر سکینہ۔۔۔
رہوار کے گلے میں عمو کا سر پڑا تھا
میری اذیتوں کا صدمہ انہیں بڑا تھا
آنکھیں لہو لہو تھی خونِ جگر بہا کے
بابا کا سر سکینہ۔۔۔
ساے کو بھی سفر میں قیدی تڑپ رہے تھے
راہوں میں ہر طرف سے پتھر برس رہے تھے
لای ہے مجھکو جانے کیسے پھپھی بچا کے
بابا کا سر سکینہ۔۔۔
کوی نہ تھا ہماری فریاد سننے والا
بے پردگی نے بابا میری ماں کو مار ڈالا
خوش ہو رہے تھے ظالم در در ہمیں پھراکے
بابا کا سر سکینہ۔۔۔
کرتی رہی دعائیں زندان سے سکینہ
جب تک خلوصِ دل سے پڑھتے رہیں یہ نوحہ
عرفان اور اختر آنسوں بہا بہا کے
بابا کا سر سکینہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.