Baba jaan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Irfan Haider
ہائے جب راہِ شام میں
دیکھا غریب باپ کا سر
نوکِ سناں پر تو سکینہ نے
تڑپ کر یہ کیا تھا نوحہ
بابا بابا بابا بابا
جب کوئی یتیمہ کہتا ہے
مجھے آپ بہت یاد آتے ہیں
کب ہوگا سفر ختم یہ میرا
راہوں میں کانٹوں پر
چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں
بابا جان
جب سے رسن میں یہ گلا ہے
بابا میرا دم گھٹ رہا ہے
مشکل ہے یہ سفر ایٔ بابا
میں اس سفر میں مر نہ جاؤں
آکر سنبھالو گِر نہ جاؤں
خاک پر دیکھو ناں پنجوں پر
چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں
بابا جان
بعد آپ کے جب شمر آیا
بابا میرا دامن جلایا
چھینے میرے گوہر ایٔ بابا
دیتی رہی رُوکر دُہائی
بالوں سے کھینچا جب میں آئی
لاش پر زخمی ہے میرا سر
چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں
بابا جان
پہلے تو مجھ کو اک قدم بھی
چلنے نہیں دیتا تھا بھائی
کیا وہ بھول گیا ایٔ بابا
بابا تیری جس پر نظر ہے
ہاں وہ میرے بھائی کا سر ہے
پوچھو ذرا سُنتا نہیں کیوں اکبر
چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں
بابا جان
سب دیکھتے ہیں بس تماشہ
جو بھی ملا دیکھو طمانچہ
اس نے مارا مجھے ایٔ بابا
کب تک رہا ہوگی سکینہ
یاد آرہا ہے اب مدینہ
بابا مجھے جاؤں گی میں کب گھر
چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں
بابا جان
رو کر سکینہ نے صدا دی
سینے پہ سونے کی ہوں عادی
نیند آی ہے مجھے ائ بابا
میں خاک پر سو نہ سکوں گی
بس یہ صدا دیتی رہوں گی
بابا تجھے گودی میں لو آکر
چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں
بابا جان
پیاسی کو سب نے یوں ستایا
پانی دیکھایا اور بہایا
کیا کیا میں نے سہا ائ بابا
نیزے سے عموں کا گِرا سر
جب شام والوں سے تڑپ کر
میں نے کہا پانی مجھے دولاکر
چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں
بابا جان
دربار میں منظر جو دیکھا
ذیشان وہ کیسے لکھے گا
اے عرفانِ عزا ائ بابا
بیٹی نے رو کے جب صدا دی
بابا کا سر گودی میں اُس کی
آگیا کہتی رہی رو رو کر
چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں
بابا جان
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.