Baap ka saaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Bober Ali
کہتی تھی سکینہ نہ اٹھے باپ کا سایہ
بچوں کے صدا سر پہ رہے باپ کا سایہ
دنیا میں یہی انکو بڑی نعمتیں رب ہے
جیتے ہیں سروں پر کو لےء باپ کا سایہ
کہتی تھی سکینہ نہ اٹھے۔۔۔
کھاتی نہ تمانچے نہ کبھی چھنتے یہ گوہر
اٹھتا نہ اگر سر سے میرے باپ کا سایہ
کہتی تھی سکینہ نہ اٹھے۔۔۔
کچھ کم نہیں ہے ان کے لئے لطف زندگی
وہ خوش نصیب جن کو ملے باپ کا سایہ
کہتی تھی سکینہ نہ اٹھے۔۔۔
مایوسی زندگی میں لگی رہتی ہے صدا
اولاد کے سر سے جو ہوتے باپ کا سایہ
کہتی تھی سکینہ نہ اٹھے۔۔۔
جب تک میرے بابا تھے کوی غم نہ مجھے تھا
جیتی رہی بے خوف لئے باپ کا سایہ
کہتی تھی سکینہ نہ اٹھے۔۔۔
سہتی نہ ستم اس طرح عاشور سے اب تک
ہوتا جو اگر سر پہ میرے باپ کا سایہ
کہتی تھی سکینہ نہ اٹھے۔۔۔
تجھکو کہاں کمی تھی کسی چیز کی ببر
جب تک کہ رہا سر پہ تیرے باپ کا سایہ
کہتی تھی سکینہ نہ اٹھے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.