Ay shimr rehm kar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Sajjad Mir
کس طرح سے بیاں ہو غربت حسین کی
چلنے لگی جو حلق پہ مظلوم کے چھری
اک چار سالہ بچی تھی میدان میں کھڑی
سہمے ہوے قدم سے سوے شمر وہ بڑی
کہتی تھی شمر دلبر زہرا کو مار کے
تجھکو ملے گا کیا میرے بابا کو مار کے
رن میں سکینہ کہتی تھی ہاتھوں کو جوڑ کے
اے شمر رحم کر میرے بابا کو چھوڑ دے
دولت کے واسطے نہ انہیں مار ٹہر جا
مت مار تو گلے پہ انہیں وار ٹہر جا
میں دے رہی ہوں خود تجھے گوہر اتار کے
اے شمر رحم کر میرے۔۔۔
رن میں سکینہ کہتی تھی۔۔۔
شاید یہی وجہ ہے جو کٹتا نہیں گلا
دادی نے خود گلے گلا ہے رکھا ہوا
لپٹی ہوی ہے فاطمہ بابا حسین سے
اے شمر رحم کر میرے۔۔۔
رن میں سکینہ کہتی تھی۔۔۔
پانی میں بابا جان کو پلا لوں تو ذبح کر
گودی میں ان کے سر کو اٹھالوں تو ذبح کر
لاشے اٹھا اٹھا کے ہیں بابا تھکے ہوے
اے شمر رحم کر میرے۔۔۔
رن میں سکینہ کہتی تھی۔۔۔
زانوں ہٹا دے بابا کے سینے سے اس گھڑی
لینے دے چین سے انہیں سانسیں یہ آخری
بس بابا جانے والے ہیں دنیا کو چھوڑ کے
اے شمر رحم کر میرے۔۔۔
رن میں سکینہ کہتی تھی۔۔۔
حر کی طرح سے اب بھی تیرا انتظار ہے
انکی نظر میں تیرے لیےء اب بھی پیار ہے
اب بھی معاف کر دیں گے اے شمر وہ تجھے
اے شمر رحم کر میرے۔۔۔
رن میں سکینہ کہتی تھی۔۔۔
دادی پکڑ کے یوں تو طمانچے لگاتے ہیں
زہرا کی بیٹیوں کے دلوں کو دکھاتے ہیں
کیوں مارتا ہے بھای کو بہنوں کے سامنے
اے شمر رحم کر میرے۔۔۔
رن میں سکینہ کہتی تھی۔۔۔
سجاد اسکے سامنے کٹتا رہا گلا
کرتی رہی وہ منتیں خنجر نہیں رکا
سرور بھی اپنی بیٹی کی غربت پہ روتے تھے
اے شمر رحم کر میرے۔۔۔
رن میں سکینہ کہتی تھی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.