Amma baar baar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nadeem Sarwar
زندانِ شام میں جہاں بی بی کا ہے مزار
راتوں کو دھیمی دھیمی سی آتی ہے اک پُکار
کانوں سے میرے خون ابھی بھی ٹپکتا ہے
اماں بار بار گلہ میرا دُکھتا ہے
اُٹھتیں ہیں جب بھی آپ میرا سانس رکتا ہے
اماں باربار گلہ ۔۔۔
سوئی نہیں ہوں شامِ غریباں کے بعد میں
اب کیا جیوں گی شام کے زنداں کے بعد میں
بے آس اب ہوں شاہِ شہیداں کے بعد میں
سایا اجل کا اماں میرے ساتھ چلتا ہے
اماں باربار گلہ ۔۔۔
کانوں کا خون آنکھوں کے آنسو سے مل گیا
ہر زخم پھول بن کے بدن پر ہے کھِل گیا
بابا کو ڈھونڈلائوکے سینے سے دل گیا
بے جان میرے جسم میں کیوں دل ڈھرکتا ہے
اماں باربار گلہ ۔۔۔
اے اماں جب سے بابا سے میںدُور ہوگئی
یہ زندگی میرے لئے ناسُور ہوگئی
پر کیا کروں نصیب سے مجبور ہو گئی
ہجرِپدر سے سینے میں اک درد اُٹھتا ہے
اماں باربار گلہ ۔۔۔
کانٹے پڑے ہیں حلق میں اے اماں پیاس سے
ڈر تی ہوں جھونکا گزرے ہوا کا جو پاس سے
نیند اُڑگئی ہے آنکھوں سے خوف و ہراس سے
رونے پہ میرے شمرِ لعیں کیوں جھڑکتا ہے
اماں باربار گلہ ۔۔۔
اصغر کے بعد پانی پیوں میں نہیں نہیں
عمّوں کے بعد زندہ رہوں میں نہیں نہیں
فریاد کچھ شقی سے کروں میں نہیں نہیں
پانی میں عکسِ چہرئہ اصغر جھلکتا ہے
اماں باربار گلہ ۔۔۔
لگتا ہے قیدِ جاں سے رہائی قریب ہے
اے اماں جان و تن رہائی قریب ہے
اب موت مجھ کو قبر کے لائی قریب ہے
دامن تو جل چکا ہے میرا دل ُسلگتا ہے
اماں باربار گلہ ۔۔۔
کونین میںیہ کیسا ہے قانون پوچھیئے
مرنے کے بعد مجھ کو رہائی نہیں ملے
یہ کیسی قید ہے کہ لحد بھی یہیں بنے
قیدی کبھی تو قید سے گھر کو پلٹتا ہے
اماں باربار گلہ ۔۔۔
اماں رہائی پا کے وطن تم تو جائو گی
صغرا میری بہن کو گلے سے لگائو گی
پوچھے گی جب مجھے تو اُسے کیا بتائو گی
رہ رہ کہ اک سوال میرے دل میں اُٹھتا ہے
اماں باربار گلہ ۔۔۔
جائو ندیم سرور و ریحان ایک بار
زندانِ شام میں جہاں بی بی کا ہے مزار
راتوں کو دھیمی دھیمی سی آتی ہے ایک پُکار
کانوں سے میرے خون ابھی بھی ٹپکتا ہے
اماں باربار گلہ ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.