Allah jaane kahan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nadeem Sarwar
جب شامِ کے زنداں میں ہوئی شام حرم کو
اک آن نہ راحت تھی نہ آرام حرم کو
ہر بار ٹپکتا تھا لہو اشکِ رواں سے
زندان لرزتا تھا سکینہ کی فغاں سے
اللہ جانے کہاں ہو اے بابا
کتنی راتیں گزرگئیں بابا
اللہ جانے کہاں۔۔۔
چھوٹے سے سِن میں قیدیئِ زندان ہو گئی
بابا میں کیوں نہ آپ پہ قربان ہو گئی
اللہ جانے کہاں۔۔۔
دل میں جومیرے درد ہے خالق کے ہے عیاں
کس کو کہوں میں باپ میرا باپ ہے کہاں
تم بے کفن میں بے سر و سامان ہو گئی
بابا میں کیوں نہ۔۔۔
اللہ جانے کہاں۔۔۔
کیا کیا نہ خلق کلمے حکارت کے کہہ گئی
میں بے کسی سے دیکھ کے منہ سب کا رہ گئی
کُرتا پھٹہ ہوا میری پہچان ہو گئی
بابا میں کیوں نہ۔۔۔
اللہ جانے کہاں۔۔۔
گر آہ کی تو شمر پُکارا خموش ہو
اور چُپ ہوئی تو بے پدری نے کہا کے رو
ان آفتوں میں گِھر کے پریشان ہو گئی
بابا میں کیوں نہ۔۔۔
اللہ جانے کہاں۔۔۔
بے جرم کان زخمی ہوئے اور تماچے کھائے
جو چاہے مجھ فلک کی ستائی کو پھر ستائے
شہزادیئِ حسین کی یہ شان ہو گئی
بابا میں کیوں نہ۔۔۔
اللہ جانے کہاں۔۔۔
صدقے گئی بتائو کہاں ہیں میرے پدر
آئیں پدر تو جائے سکینہ بھی اپنے گھر
کیوں ایسے ظالموں کی میں مہمان ہو گئی
بابا میں کیوں نہ۔۔۔
اللہ جانے کہاں۔۔۔
پوتی ہوں اُسکی جو کہ ہے کونین کا امیر
جس نے ہزارو قید سے چھڑوا دیے اسیر
اُمت نبی کی دیکھ کے انجان ہو گئی
بابا میں کیوں نہ۔۔۔
اللہ جانے کہاں۔۔۔
جب سر پہ شاہِ دیں کے سکینہ نے کی نظر
چلّائی روکے ہائے غضب مر گئے پدر
بابا کے سر کو دیکھ کے حیران ہو گئی
بابا میں کیوں نہ۔۔۔
اللہ جانے کہاں۔۔۔
منہ رکھ کے منہ پہ شاہ کے روئی جو دل فگار
صدمہ ہوا نکلنے لگی تن سے جانِ زار
ننھی سی جان جان سے بے جان ہو گئی
بابا میں کیوں نہ۔۔۔
اللہ جانے کہاں۔۔۔
بس اے انیس بزم میں ہے گریہ و بکا
صدیوں تلک رُلائے گا سب کو یہ مرثیہ
بالی سکینہ کرب کا عنوان ہو گئی
بابا میں کیوں نہ۔۔۔
اللہ جانے کہاں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.