Aisa safar na ho
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Mohsin Ali
سجدے میں ہے زمیں تو فلک ہے قیام میں
قوت نہیں ہے اٹھنے کی بیمار امام میں
آیا سر حسین تو کہرام مچ گیا
گونجی صدا سکینہ کے زندان شام میں
بابا کسی غریب کا ایسا سفر نہ ہو
غربت میں اس طرح کوئی تاراجگھر نہ ہو
ایسا سفر نہ ہو ایسا سفر نہ ہو
بابا میں دیکھتی رہی کہ ہوا قتل آپ کا
دکھلاے رب نہ بیٹی کو یہ حال باپ کا
سر جسم سے کسی کے جدا اس قدر نہ ہو
ایسا سفر نہ ہو۔۔۔
داغ یتیمی کیا ہے خبر تک نہ تھی مجھے
یہ بات آپ ہی نے تو بتلای تھی مجھے
بچہ وہی یتیم ہے جس کا پدر نہ ہو
ایسا سفر نہ ہو۔۔۔
جب بھی طمانچے مارتا تھا شمر بد گوہر
بابا تڑپ تڑپ کے میں گر جاتی خاک پر
بیٹی کے آگے باپ کا نیزے پہ سر نہ ہو
ایسا سفر نہ ہو۔۔۔
ہر پل تمہیں بلاتی تھی بابا اب آیےء
میری مدد کو کیوں نہیں آے بتایےء
ممکن نہ ہو کہ آپ کو میری خبر نہ ہو
ایسا سفر نہ ہو۔۔۔
کوفے کی راہ میں کبھی بازار شام میں
اہلِ ستم کے سامنے دربار شام میں
میری طرح کسی کا بھی عریان سر نہ ہو
ایسا سفر نہ ہو۔۔۔
جکڑا ہوا تھا میرا گلا رسیوں کے بیچ
میں بے ردا کھڑی تھی تماشائیوں کے بیچ
بازار شام جیسی کوئی رہ گزر نہ ہو
ایسا سفر نہ ہو۔۔۔
یہ کمسنی میں کوہ مصیبت تو دیکھیےء
زندان شام میں میری حالت تو دیکھیےء
پنجرے میں جیسے پنچی ہو اور جس کے پر نہ ہو
ایسا سفر نہ ہو۔۔۔
گودی میں لے کے سر شاہ انس و جاں
محسن مجیب بالی سکینہ نے کی فغاں
مجھ غم زدہ کی طرح کوئی بے پدر نہ ہو
ایسا سفر نہ ہو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.