Achay mere baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nadeem Sarwar
ہائے کیا عالمِ تنہائی ہے
اب آخری رُخصت کو چلے سیدِوالا
کہرام تھا دل ہوتے تھے غم سے تہوبالا
شبیر نے گودی سے سکینہ کو اُتارا
غازی کو کبھی اکبر و قاسم کو پکارا
بابا کو قسم دے کے بُلاتی تھی سکینہ
سر پیٹتی پیچھے چلی جاتی تھی سکینہ
اچھے میرے بابا
ہائے کیا عالمِ تنہائی ہے
اچھے میرے بابا نہ سکینہ سے چھپانہ
کہیںدور نہ جانا
دل روتا ہے کیوںپہنا ہے ملبوس پُرانہ
کہیں بھول نہ جانا
اس طرح سفر پر کوئی جاتا نہیں دیکھا
پہنے تمہیں ایسا کبھی کُرتا نہیں دیکھا
میں جان گئی آج ہے مقتل میں ٹھکانہ
کہیں بھول نہ جانا
اچھے میرے بابا۔۔۔
شہہ بولے میں قربان میری جان سکینہ
اک وعدہ ہے جو آج نبھانہ ہے سکینہ
خیموں سے نکل کر نہ ہمیں ڈھونڈنے آنا
کہیں بھول نہ جانا
اچھے میرے بابا۔۔۔
کل رات سے بے چین تھے میں دیکھ رہی تھی
میں سینے پہ لیٹی تھی مگر سوئی کہاں تھی
اب سمجھی تمہیں ہم سے بہت دُور ہے جانا
کہیں بھول نہ جانا
اچھے میرے بابا۔۔۔
آتا ہے نظر حال غریبی کا تمہاری
لگتا ہے یہ سامان یتیمی کا ہماری
بابا ہمیں جینے نہیں دے گا یہ زمانہ
کہیں بھول نہ جانا
اچھے میرے بابا۔۔۔
اکبر کبھی اصغر کبھی قاسم نے رُلایا
جو رن کو گیا آج پلٹ کر نہیں آیا
بھولی نہیں اب تک میں چچا جان کا جانا
کہیں بھول نہ جانا
اچھے میرے بابا۔۔۔
پہلو سے شہہ دیں کے نہ ہٹتی تھی سکینہ
دامن کبھی قدموں سے لپٹتی تھی سکینہ
تڑپاتا ہے یہ آپ کا دامن کو چھڑانا
کہیں بھول نہ جانا
اچھے میرے بابا۔۔۔
اے سرور و ریحان یہ کہنے لگے سرور
ہم بھی وہیں جاتے ہیں جہاں سوتے ہیں اصغر
بیٹی پھپی اماں کو نہ رو رو کے رُلانا
کہیں بھول نہ جانا
اچھے میرے بابا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.