Ab sakina may dam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Azhar Ali
اب سکینہ میں دم کہاں اماں
اب تو کھلواوء ریسماں اماں
کم یہ زنداں نہیں ہے تربت سے
موت بہتر ہے ایسی دہشت سے
دم گھٹا جا رہا ہے وحشت سے
شمع بھی تو نہیں ہے قسمت سے
کیسا تاریک ہے مکاں اماں
کان زخمی کیے لیے لو لو
اور پھر اس پہ ظلم ہے کہ نہ رو
یہ غضب بھی عجیب ہے دیکھو
میں جو روتی ہوں اپنے بابا کو
شمر دیتا ہے گھرکیاں اماں
لوگ دیتے ہیں کیا یونہی پرسہ
دونوں رخسار میرے دیکھیےء گا
دیگا کتنی یتیم کو ایذا
پوچھیےء شمر سے براے خدا
کتنے کھاؤں میں سیلیاں اماں
کس میں حالت ہے مار کھانے کی
کوئی صورت کرو بچانے کی
کیا میں قابل ہوں تازیانے کی
شمر کی پھر خبر ہے آنے کی
رک رہی ہے میری زباں اماں
کس قدر ہے شقی کے دل میں کد
مارتا ہے جو دم بہ دم مرتد
ہو چکی ہو چکی ستم کی حد
میرے مرنے کے بعد ہی شاید
شمر کھولے گا ریسماں اماں
وا حسینا کا ہاے وہ نالہ
ہاے سونے مجھے نہیں دیتا
قید خانے کے پاس ہی گویا
صبح تک نام لے کے بابا کا
آکے روتی ہے دادی جاں اماں
چاہنے والے ہی نہ ہو جس کے
قید خانے میں کیوں نہ وہ روے
وہ جدا ہم سے ہم جدا ان سے
کربلا میں ہیں کربلا والے
کیا کریں رہ کے ہم یہاں اماں
بابا لے جانے آگےء لیجئے
مجھکو اب قبلہ رو لٹا دیجیےء
اتنی تکلیف اور بھی کیجئے
پڑھنے یاسین ان سے کہہ دیجئے
غش میں اٹھے جو بھای جاں اماں
لی جو بچی نے موت کی ہچکی
یا علی کہکے غش ہوی ماں بھی
آکے سب جمع ہوگئے قیدی
کہکے نادان مرگیء حلمی
اب تو کھلواوء ریسماں اماں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.