Ab sakina ko kabhi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nasir Zaidi
خون کے اشک یتیمی اسے رلواے گی
اب سکینہ کو کبھی نیند نہیں آے گی
خاک پر عون و محمد کو پڑا دیکھا ہے
لاشے عباس میں نیزوں کو گڑا دیکھا ہے
سر کو بے شیر کے بھی تن سے جدا دیکھا ہے
باپ کے سینے کو تیروں سے بھرا دیکھا ہے
اب سکینہ کو کبھی۔۔۔
ماں رسن بستہ ہے اور قید ہے بھای بیمار
چین اب دل کو آے گا نہ آے گا قرار
مارتا جاے گا ہر گام طمانچے بڑھکار
خاک پر سر جو رکھے گی دیکھیں گے رخسار
اب سکینہ کو کبھی۔۔۔
مار کر درہ تڑپنے بھی نہیں دیگا لعیں
کھا کے غش خاک پہ گرنے بھی نہیں دیگا لعیں
رونا چاہے گی تو رونے بھی نہیں دیگا لعیں
نیند گر آی تو سونے بھی نہیں دیگا لعیں
اب سکینہ کو کبھی۔۔۔
کردن شاہ پہ چلتا ہوا خنجر دیکھا
اس نے برچھی سے چھدا سینۂ اکبر دیکھا
ایک ہی دن میں اجڑتا ہوا سب گھر دیکھا
عصر عاشور کو زینب کا کھلا سر دیکھا
اب سکینہ کو کبھی۔۔۔
جلتے خیموں کا دھواں آنکھوں میں باقی ہے ابھی
چھنتے گوہر کی دکھن کانوں میں باقی ہے ابھی
تنگ رسی کی گھٹن سانسوں میں باقی ہے ابھی
پھٹتے چھالوں کی جلن پیروں میں باقی ہے ابھی
اب سکینہ کو کبھی۔۔۔
پیاسے پینے کے لئے بھوک ہے کھانے کے لئے
شمر بدکار ہے ہمراہ ستانے کے لئے
اور بے رحم طمانچے ہیں رلانے کے لئے
یہ جو زندہ ہے تو زندان میں جانے کے لئے
اب سکینہ کو کبھی۔۔۔
بھول پاے گی نہ غازی کے کٹے شانوں کو
بھول پاے گی نہ لٹتے ہوے ارمانوں کو
بھول پاے گی نہ وہ کوفے کے اہوانوں کو
بھول پاے گی نہ وہ شام کے زندانوں کو
اب سکینہ کو کبھی۔۔۔
نیند اسے نور علی آے تو کیسے آے
جس کو تقدیر یہ غربت کی گھڑی دکھلاے
گام در گام جو پتھر کبھی درے کھاے
نوحہ ناصر نے پڑھا دل سے یہ نکلا ہاے
اب سکینہ کو کبھی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.