Ab mujhe koi sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
شاہ کی لاڈلی جب قیدی زندان ہوئی
رؤئی گھبرائی بہت اور پریشان ہوئی
قید خانے کی گھٹن موت کا سامان ہوئی
جان لگتا تھا کہ معصوم کی بے جان ہوئی
لاش شببر کی مقتل میں تڑپ جاتی تھی
قید خانے سے بچی کی صدا آتی تھی
اب مجھے کوئی سکینہ نہیں کہتا بابا
قیدی کہتا ہے کوئی کوئی یتیما بابا
میں بیاں کیسے کروں اپنی مصیبت تم سے
کیا کروں اپنے طمانچوں کی شکایت تم سے
سنتی ہوں دادی نے کھایا تھا طمانچہ بابا
....اب مجھے کوئی
نیل رخساروں پہ بینائ بھی جسکی کم ہو
عمر ہو چار برس اور کمر میں خم ہو
أپ نے دیکھی ہے کیا ایسی ضعیفی بابا
....اب مجھے کوئی
خون بےشیر سے اندازہ کیا تھا میں نے
آپ کا چہرہ تو پہچان لیا تھا میں نے
آپ پہچانو گے کیسے میرا چہرہ بابا
....اب مجھے کوئی
آپ تھے دور تو میں سارے ستم سہتی رہی
رو پڑی کوفہ کے دربار میں میں سہ نہ سکی
آپ کے سامنے جب نے مارا بابا
...اب مجھے کوئی
وہ تو بیمار تھی مر جاتی سفر میں آکے
دفن کرتے اسے بازار میں بھیا کیسے
یہ تو اچھا ہوا آی نہیں صغرا بابا
...اب مجھے کوئی
میری آنکھوں سے بہے جاتے تھے آنسوں اس دم
ہاتھ بھی میں نے لگایا نہیں دادی کی قسم
دینا چاہا تھا مجھے لوگوں نے صدقہ بابا
...اب مجھے کوئی
اس گھڑی ڈھونڈ رہی تھی میں چچا جاں کا سر
کیسے بتلاؤں کہ کیا گزری تیری بیٹی پر
مجھکو ظالم نے کنیزی میں جو مانگا بابا
...اب مجھے کوئی
بین یہ کرتے ہی خاموش ہوئی وہ اکبر
آج تو جاینگے ساتھ اپنے مجھے بھی لیکر
اپ کو میری قسم کیجئے وعدہ بابا
....اب مجھے کوئی....اب مجھے کوئی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.