Aaja meri jaan Sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Raza Abbas Zaidi
زخمی کانوں پہ ہاتھوں کو رکھے ہوئے
نکلی خیموں سے اک بچی روتی ہوئی
اس کا کرتا جلا سرخ رخسار تھا
بابا بابا کی وہ دے رہی تھی صدا
ہائے بابا ہائے بابا ہائے بابا
ہائے لرزہ تھا اس کے ہاتھوں میں
باپ کو ڈھونڈتی تھی لاشوں میں
جب وہ بابا کو ڈھونڈ نہ پائی
ایک لاشے سے یہ صدا آئی
آجا میری جان سکینہ تو کہاں ہے
تیرا بابا یہاں ہے
ایسے گھبرا نہیں میری بچی
ہے تیرا بابا تیرے ساتھ ابھی
ڈھونڈ لاشوں میں ایک لاش ایسی
جسکی اک اُنگلی کٹی ہے بیٹی
سن کے سکینہ نے کہا بابا اُن ہاتھوں سے
تم نے جو تحفے میں مجھے لاکر دئے تھے
شمر وہ گوہر لے گیا بابا کہاں ہو
خوں میرے کانوں سے بہا بابا کہاں ہو
آجا میری جان سکینہ۔۔۔
الي، الي الي يا بنیا سکینہ
میری آواز سنکے آجا ادھر
ہو چکا ہے میرا بدن بے سر
وار اتنے کئے گئے مجھ پر
آ چکی ہیں میری رگیں باہر
آتے ہوئے میں نے سنا کہ رہا تھا کوئی
پھپیوں کے شانوں سے میری گردن بندھے گی
چھوٹا ہے قد سب سے میرا بابا کہاں ہو
ہوگا میرا زخمی گلا بابا کہاں ہو
کیسے پہچانوگی مجھے بولو
مل کے مارا ہے تیرے بابا کو
اے میری جان میری بات سنو
سب سے زخمی بدن تلاش کرو
مارکے جب تمکو لعیں خیموں میں آیا
بال میرے کھینچے مجھے مارا طمانچہ
زخمی ہوا چہرا میرا بابا کہاں ہو
اتنا مجھے مارا گیا بابا کہاں ہو
آجا میری جان سکینہ۔۔۔
کب سے جاگی ہے پاس آ میرے
آرہی ہوگی بیٹا نیند تجھے
تو مگر سوئےگی یہاں کیسے
میرا سینہ بھرا ہے تیروں سے
تیر نکالوں گی میں خود ننھے ہاتھوں سے
بابا مگر سوؤنگی میں سینے پہ تیرے
رن میں اندھیرا ہوگیا بابا کہاں ہو
سینہ کہاں ڈھونڈوں تیرا بابا کہاں ہو
آجا میری جان سکینہ۔۔۔
پہلی منزل ہے یہ مصیبت کی
ظلم سہنے ہیں تجھکو اور ابھی
جو سنے گا تو ہے میری بیٹی
اور مارے گا تجھکو اے بی بی
آپکی بیٹی ہوں اُسے جب یہ بتایا
جان کے ظالم نے میرا دامن جلایا
چھین کے لے گیا ردا بابا کہاں ہو
دیتی رہی میں یہ صدا بابا کہاں ہو
آجا میری جان سکینہ۔۔۔
یہ بھی پہچان ہے میری سن لے
جب گرایا گیا مجھے زیں سے
یوں تو تلواریں بھی چلیں مجھ پہ
سب سے گہرے ہیں زخم نیزوں کے
نیزے کا جب نام سنا بولیں سکینہ
اس طرح خولی نے مجھے نیزے سے مارا
چہرے کے بل گرادیا بابا کہاں ہو
یاد بہت آئے چچا بابا کہاں ہو
آجا میری جان سکینہ۔۔۔
ڈھونڈا ذیشان اور رضا ہر سو
آئی جس وقت باپ کی خوشبو
پونچھ کر ننھے ہاتھ سے آنسو
پہنچی لاشے پہ ہوکے بے قابو
غم جو سہے بھول گئی
جب دیکھا منظر
گھوڑوں سے پامال بدن
اور تھا کٹا سر
پھر نہ سکینہ نے کہا بابا کہاں ہو
اٹھ کے سنو حال میرا بابا کہاں ہو
آجا میری جان سکینہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.