Aaj ki raat sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
بابا آجاؤ یہ بیٹی جو تمہیں پیاری ہے
آج کی رات سکینہ پہ بہت بھاری ہے
آبلے دکھتے ہیں ہوتی ہے چھبن خاروں کی
بڑھتی جاتی ہے اذیت میرے رخساروں کی
یہ ہی حالت بخدا ہوتی ہے بیماروں کی
ایسا لگتا ہے کہ مرنے کی یہ تیاری ہے
...آج کی رات سکینہ پہ
اپنی جانب جو بلاتی ہے یہ زنداں کی زمیں
یہ کہیں آپ سے ملنے کا اشارہ تو نہیں
جلد آ جائیں نہ ہو جائے بس اب دیر کہیں
آپ کے سینے پہ سونے کی میری باری ہے
...آج کی رات سکینہ پہ
اتنا صابر ہے میرا بھائی کہ ہر دکھ سہہ کے
خون کے آنسو بہرحال ٹہر جاتے تھے
ہاں مگر مانگا گیا جب سے کنیزی میں مجھے
بھائی سجاد کی آنکھوں سے لہو جاری ہے
...آج کی رات سکینہ پہ
شمر کے دروں نے کر دی ہے کمر میری نڈھال
میرے بالوں کی سفیدی سے عیاں ہے میرا حال
اب مجھے دیکھ کے کرتے ہیں سبھی لوگ سوال
زرد چہرہ ہے کیا اس بچی کو بیماری ہے
...آج کی رات سکینہ پہ
پیار ہے بیٹی سے کتنا یہ بتانا ہوگا
ساتھ میں سارے شہیدوں کو بھی لانا ہوگا
پہلا پرسہ میرا لینے تمہیں آنا ہوگا
آج زنداں میں سکینہ کی عزاداری ہے
...آج کی رات سکینہ پہ
سوچتی ہوں کہ کفن کیسے میرا لا ئیں گے
کس طرح لاش کو بھیا میری دفنا ئیں گے
قیدی ہاتھوں سے مجھے کیسے اٹھا پائیں گے
کیسی یہ مالک و مختار کی لاچاری ہے
...آج کی رات سکینہ پہ
خاک پر تھک کے جو بیٹھی تو طمانچے کھائے
ہائے عباس پکاری تو طمانچے کھائے
آپکے نام پہ روئی تو طمانچے کھائے
میرے رخساروں پہ تفصیل لکھی ساری ہے
...آج کی رات سکینہ پہ
باپ کو بیٹی صدا دےکے یہ بولی اکبر
کر دیے بازو نثار اپنے چچا نے مجھ پر
اٹھے گا ان کا علم مشک سکینہ لے کر
وہ وفا انکی تھی یہ میری وفاداری ہے
...آج کی رات سکینہ پہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.