Veeran haveli may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Hasan Sadiq
یہ کیسی اُداسی ہے
ویران حویلی میں صُغریٰ گھبراتی ہے
اب لوٹ کے آ اکبر بیمار بُلاتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
پردیس گئے ایسے صغریٰ کی نہ یاد آئی
نانا کے روضے پہ فریاد سُناتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
قدموں کے نشانوں کو کبھی دیکھ کے روتی ہے
اصغر کا کبھی جھُولا بیمار جھُلاتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
خوشیوں کی گھڑی آےگی جب آؤ گے اکبر
صغرا یہ صدا دیتی تھی کب آؤ گے اکبر
بیمار کی سانسوں کا بھلا کیا ہے بھروسہ
دم میرا نکل جاے گا کب آؤ گے اکبر
اب ان دیواروں میں دم گھُٹتا ہے صغریٰ کا
لے کے نام اکبر کا وہ اشک بہاتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
اکبر کی شادی کا لائیں گے پیام چچا
اس آس پہ وہ سہرے بھائی کے بناتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
قدموں کے نشاں چوم کے دن کاٹ رہی ہے
اکبر تیری یادوں کی ستای ہوی صغرا
روتی ہے تیرے یاد میں سوتی نہیں شب بھر
بے چین ہے خوابوں کی ترای ہوی صغرا
اُلجھا ہوا برچھی میں اکبر کا جگر دیکھا
اس خواب کی صغریٰ کو تعبیر رُلاتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
شام کے ڈھلتے ہی بڑھ جاتی ہے تنہائیجب
جواد دیئے صغریٰ اشکوں کے جلاتی ہے
ویران حویلی میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.