Sughra se tu
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Ameer Hasan Aamir
صغرا سے تو سکینہ بڑی خوش نصیب ہے
رہ کر مسافرت میں بھی سب کے قریب ہے
پھوپھیوں کا تجھکو ساتھ مبارک ہو اے بہن
بابا کا سر پہ ہاتھ مبارک ہو اے بہن
میں سب سے چھٹ گیء میرے قسمت عجیب ہے
صغرا سے تو سکینہ۔۔۔
اس رنج و غم سے میرے مرض اور بڑھ گےء
اک دن میں سارے چاہنے والے بچھڑ گےء
میرا نصیب جانے یہ کیسا نصیب ہے
صغرا سے تو سکینہ۔۔۔
خوشیاں تمام ہاے وطن سے چلی گیء
منہ پھیر کر بہاریں چمن سے چلی گیء
ویرانیوں میں نوحہ کناں اندلیب ہے
صغرا سے تو سکینہ۔۔۔
تنہا وطن میں تیری بہن جی نہ پاے گی
اب تو خبر تجھے میرے مرنے کی جاے گی
بابا کے ہجر میں میری حالت عجیب ہے
صغرا سے تو سکینہ۔۔۔
بھیا کو میرے درد کا احساس بھی نہیں
میں ہوں قریب مرگ کوئی پاس بھی نہیں
تیری بہن وطن میں بھی رہ کر غریب ہے
صغرا سے تو سکینہ۔۔۔
آتا نہیں ہے کوئی مریضہ کو تھامنے
رہتے ہیں سب کے چہرے نگاہوں کے سامنے
بیمار غم ہوں اور نہ میسر طبیب ہے
صغرا سے تو سکینہ۔۔۔
آجاؤ بھای جان بس اتنا کرم کرو
آکر بہن پہ سورہء یاسین دم کرو
دل ڈوبتا ہے موت کی منزل قریب ہے
صغرا سے تو سکینہ۔۔۔
بابا کہاں مریضہ میں طاقت ہے صبر کی
اس لاش کو سپرد کرو آ کے قبر کی
ہمشکل مصطفیٰ کی جدائی سلیب ہے
صغرا سے تو سکینہ۔۔۔
میری طرف سے بالی سکینہ تیرے نثار
صدقہ اتارنے علی اصغر کا بار بار
پردیس کا سفر ہے زمانہ رقیب ہے
صغرا سے تو سکینہ۔۔۔
ملواے مجھ غریب کو کنبے سے پھر خدا
روضے پہ دادا جان کے کر دینا یہ دعا
سنتی ہو کربلا سے نجف بھی قریب ہے
صغرا سے تو سکینہ۔۔۔
اختر غموں میں ڈوبے ہے صغرا کے واقعات
عامر بیان کرتے ہیں روتی ہے کاینات
صغرا کی داستان عجیب و غریب ہے
صغرا سے تو سکینہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.