Sughra ne likha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Hadi Ali Khan Muslim
صغریٰ نے لکھا بابا کب لوٹ کے آؤ گے
دشوار ہوا جینا کب لوٹ کے آؤ گے
روٹھی ہے خوشی مجھ سے ہر لمحہ نیا غم ہے
دھڑکن کی صداؤں میں تنہائی کا ماتم ہے
بھیا علی اکبر کی فرقت میں یہ عالم ہے
ہر سانس ہے اک بھالا کا لوٹ کے آؤ گے
صغریٰ نے لکھا بابا۔۔۔
کیا جانیےء آتے ہیں کیوں مجھکو یہ اندیشے
منظر نظر آتے ہیں جلتے ہوے خیموں کے
رہ رہ کے نہ جانے کیوں گرتی ہے ردا سر سے
کیا حال ہے پھوپھیوں کا کب لوٹ کے آؤ گے
صغریٰ نے لکھا بابا۔۔۔
رہتا ہے تصور میں چہرہ علی اکبر کا
پھرتا ہے نگاہوں میں جھولا علی اصغر کا
اللّٰہ محافظ ہے اب میرے بھرے گھر کا
گھبراتا ہے دل میرا کب لوٹ کے آؤ گے
صغریٰ نے لکھا بابا۔۔۔
آفت کے مصیبت کے غربت کے مناظر ہے
گھیرے ہوے ہر لمحہ فرقت کے مناظر ہے
اب تک بھی نگاہوں میں رخصت کے مناظر ہیں
یاد آتا ہے گھر سارا کب لوٹ کے آؤ گے
صغریٰ نے لکھا بابا۔۔۔
کل عون و محمد تھے اور اکبر و اصغر تھے
قاسم تھا سکینہ تھی عباس دلاور تھے
سامان سکوں کے سب جس گھر میں میسر تھے
اس گھر میں ہے سناٹا کب لوٹ کے آؤ گے
صغریٰ نے لکھا بابا۔۔۔
بھیا علی اکبر کا جب بیاہ رچا ہو گا
سوچا نہ کسی نے بھی ہے دور بہت صغرا
حسرت ہے کہ دیکھوں میں بھای کو بنے دولہا
گوندھی ہوں یہاں سہرا کب لوٹ کے آؤ گے
صغریٰ نے لکھا بابا۔۔۔
جب دیکھتی ہوں پانی آنسوں نکل آتے ہیں
وسواس میرے دل کو ہر آن رلاتے ہیں
کیا پیاس کی ایذا بھی گھر والے اٹھاتے ہیں
ہیں خشک گلا میرا کب لوٹ کے آؤ گے
صغریٰ نے لکھا بابا۔۔۔
کیوں جانے مجھے اکثر آتا ہے خیال ایسا
یوں لگتا ہے جیسے کہ بے پردہ ہے سب کنبہ
اللّٰہ رکھے پردہ زہرا کے گھرانے کا
دل کانپتا ہے میرا کب لوٹ کے آؤ گے
صغریٰ نے لکھا بابا۔۔۔
ششماہ میرا بھای یاد آتا ہے رہ رہ کر
کیوں گھٹنیوں چلتا ہے اب میرا علی اصغر
ہو پیار میرا بابا معصوم کی آنکھوں پر
ڈالی ہوں میں گہوارہ کب لوٹ کے آؤ گے
صغریٰ نے لکھا بابا۔۔۔
کیا یاس ہے اے رضوی پہنچا ہے خط صغرا
ریتی پہ رکھا شہ نے لاشہ اصغر کا
رونے لگے بیٹی کا خط پڑھ کے شہ والا
خط میں یہی لکھا تھا کب لوٹ کے آؤ گے
صغریٰ نے لکھا بابا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.