Sughra ne likha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Shahid Baltistani
کربلا میں جو خط فاطمہ صغریٰ آیا
پڑھ کے یہ بات بہت شاہ کو رونا آیا
حشر میں ہو گی ملاقات ہماری بابا
اب نہ جی پاے گی بیمار تمہاری بابا
صغرا نے لکھا بابا مشکل ہے میرا جینا
جب لوٹ کے آؤ گے میری قبر پہ آ جانا
جب ڈوبتا ہے سورج دل ڈوبنے لگتا ہے
ویران ہے سب حجرے گھر قبر کے جیسا ہے
ہے میرے مقدر میں تنہائی میں مر جانا
جب لوٹ کے آؤ گے۔۔۔
صغرا نے لکھا بابا۔۔۔
ہے پاس اجل میرے تم دور ہو صغرا سے
حسرت یہ لےء بابا جاتی ہوں میں دنیا سے
کاندھا تو جنازے کو ممکن نہ ہوا دینا
جب لوٹ کے آؤ گے۔۔۔
صغرا نے لکھا بابا۔۔۔
آتا ہے پلٹ کر جب پردیس سے گھر کوی
معلوم ہے صغرا کو ہوتی ہے تھکن پھر بھی
اے بابا میری خاطر زحمت یہ اٹھا لینا
جب لوٹ کے آؤ گے۔۔۔
صغرا نے لکھا بابا۔۔۔
آ کر میری تربت پر سب شمع جلائیں گے
اور بھای سرہانے پر یاسین سنائیں گے
ہو جاے گا اس طرح آباد وہ ویرانہ
جب لوٹ کے آؤ گے۔۔۔
صغرا نے لکھا بابا۔۔۔
اے کاش مدینے میں وہ پاس میرے رہتا
صغریٰ کے جنازے پر اک بھای تو رو لیتا
بابا میرے اصغر کو تربت میری دکھلانا
جب لوٹ کے آؤ گے۔۔۔
صغرا نے لکھا بابا۔۔۔
بھای کی محبت پر نہ حرف کوئی آے
معلوم نہ ہو انکو یہ راز ہی رہ جاے
مرنے کا سبب میری بھابھی کو نہ بتلانا
جب لوٹ کے آؤ گے۔۔۔
صغرا نے لکھا بابا۔۔۔
رخ ہو گا لحد میں بھی اے بابا سوے قبلہ
میں قبر میں جا کر بھی دیکھوں گی تیرا رستہ
اچھا میرے وعدے کو تم یوں ہی نبھا لینا
جب لوٹ کے آؤ گے۔۔۔
صغرا نے لکھا بابا۔۔۔
کرتی تھی تکلم وہ یہ بین قیامت کا
دستور نہیں ہوتا مردے سے محبت کا
اماں کو مگر بابا پیغام یہ پہنچانا
جب لوٹ کے آؤ گے۔۔۔
صغرا نے لکھا بابا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.