Sughra ne khat likha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Hasan Sadiq
صغریٰ نے خط لکھا ہے کب آئو گے اکبر
جان آ گئی لبوں پر کب آئو گے اکبر
صغریٰ نے خط لکھا ہے۔۔۔
اب تو دیا جلانے کی طاقت نہیں رہی
یوں سمجھو اب تو جینے کی حسرت نہیں رہی
پردیس سے پلٹ کر کب آئو گے اکبر
جان آ گئی لبوں پر کب آئو گے اکبر
صغریٰ نے خط لکھا ہے۔۔۔
قبرِ نبی پہ جا کرمنت ہے میں نے مانی
کنبے پہ میرے یا رب ہوے نہ بند پانی
در پہ کھڑی ہے خواہر کب آئو گے اکبر
جان آ گئی لبوں پر کب آئو گے اکبر
صغریٰ نے خط لکھا ہے۔۔۔
سوچا تھا بہن بھائی کے مندی لگائے گی
شادی پہ اپنے بھائی کی خوشیاں منائے گی
کیا خبر تھی پامال ہو گی بھائی تیری لاش
بہن تیرے جنازے پہ آ بھی نہیں پائے گی
شادی اگر رچانا کرب و بلا میں جا کے
حق میرا مجھ کو دینا بھیا وطن میں آکے
دولہن کو اپنی لے کر کب آئو گے اکبر
جان آ گئی لبوں پر کب آئو گے اکبر
صغریٰ نے خط لکھا ہے۔۔۔
بھیا بہن کا میری دیکھو خیال رکھنا
جب مجھ کو یاد کر کے روئے میری سکینہ
لے کر اُسے میرے گھر کب آئو گے اکبر
جان آ گئی لبوں پر کب آئو گے اکبر
صغریٰ نے خط لکھا ہے۔۔۔
صغریٰ نے انتظار کے صدمے اُٹھائے ہیں
بھائی تو پھر بھی لوٹ کے واپس نہ آئے ہیں
تنہائی گھر کی قلب کا آزار بن گئی
آنسو بہن نے قبرِ نبی پر بہائے ہیں
چھ ماہ کے ہو گئے ہیں خط بھی نہ تم نے لکھا
کس حال میں ہے صغریٰ یہ بھی نہ تم نے پُوچھا
کہتا ہے قلبِ مُضطر کب آئو گے اکبر
جان آ گئی لبوں پر کب آئو گے اکبر
صغریٰ نے خط لکھا ہے۔۔۔
ریحان ایک دن یہ کیسی خبر تھی آئی
ہم شکلِ مصطفی نے سینے پہ برچھی کھائی
آیا ہے پھر لبوں پر کب آئو گے اکبر
جان آ گئی لبوں پر کب آئو گے اکبر
صغریٰ نے خط لکھا ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.