Sughra ne aansuon ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Farhan Ali Waris
کبھی خالی حجروں میں کبھی دہلیز پر جا کر
صغرا نے آنسوں کے کتنے دئیے جلائے
اے کاش میرا کنبہ واپس وطن کو آئے
صغرا نے آنسوں کے کتنے دئیے جلائے
پردیس جانے والے پھر لوٹ کر نا آئے
بیٹھی رہی وہ در پر بس آس ہی لگائے
صغرا نے آنسوں کے۔۔۔
جب چاند دیکھتی ہے وہ عید کا فلک پر
کچھ چاند اپنے گھر کے صغرا کو یاد آئے
صغرا نے آنسوں کے۔۔۔
بڑھتے ہی جا رہے ہیں رنج و علم کے سائے
ویران گھر میں مجھ کو تنہائی کھائے جائے
وعدہ کیا تھا مجھ سے آونگا لینے بہنا
دم آگیا لبوں پر بھئیا مگر نہ آئے
پردیس جا کے اکبر بھولے ہیں اپنا وعدہ
بھئیا کو یاد وعدہ جا کر کوئی دلائے
صغرا نے آنسوں کے۔۔۔
اکبر سے جا کے کہنا مرتی ہے تیری صغرا
جب کربلا کی جانب یثرب سے کوئی آئے
صغرا نے آنسوں کے۔۔۔
رو رو کے عید گزری نو روز بھی گزارا
بچھڑے ہوں جس کے اپنے وہ عید کیا منائے
صغرا نے آنسوں کے۔۔۔
صغرا نے خط میں لکھا بے کار ہے یہ جینا
نا موت آئی مجھ کو بابا نا آپ آئے
صغرا نے آنسوں کے۔۔۔
شاید مباہلہ کی پھر آ پڑہے ضرورت
زہرا کی بیٹیوں کو۔شبیر ساتھ لائے
صغرا نے آنسوں کے۔۔۔
چہرے پہ اُنگلیوں کے اب تک نشاں ہے باقی
زندان میں سکینہ روتی ہے موں چُھپائے
صغرا نے آنسوں کے۔۔۔
تم اہلِ اشقیا کیا قرآں سمجھ سکوگے
اختر فقیر کی جو بانتیں سمجھ نا پائے
صغرا نے آنسوں کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.