Sughra ko nahi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Shahid Baltistani
پردیس گئے بابا دیس میں صغرا تنہا ہے
ہوبہو فاطمہ جیسا ہی تھا چہرا اُس کا
کربلا اس لیے صغرا کو نہیں لائے حسین
باپ کو دیکھے گی وہ دشت میں کیسے پیاسا
کربلا اس لیے صغرا کو نہیں لائے حسین
پھر نبی زادی کو یہ دن نا دیکھائے کوئی
راہ میں اس کو تماچے نا لگائے کوئی
زخمی ہاتھوں سے چھپائے نا وہ زخمی چہرا
کربلا اس لیے صغرا کو۔۔۔
آئے گی خیموں میں جب لاش علی اکبر کی
ہوگی اُس وقت کلیجے میں سِناں ٹوٹی ہوئی
دیکھ نا پائے گی بھائی کا وہ زخمی سینہ
کربلا اس لیے صغرا کو۔۔۔
شہہ نے دیکھا تھا اسے بیٹھے ہوئے جھولے کے پاس
اپنے ہاتھوں سے بناتے ہوئے اصغر کے لباس
خون میں ڈوبا ہوا دیکھے گی وہ کیسے کُرتا
کربلا اس لیے صغرا کو۔۔۔
طوق سجاد کی گردن سے چھڑانے کے لئے
پیچھے پیچھے نا چلی آئے بچانے کے لیے
تازیانہ کوئی مارے نا سمجھ کر زہرا
کربلا اس لیے صغرا کو۔۔۔
دیکھ کر اس کو تماشائی کہنگے ہنس کر
یہ تو ہے فاطمہ زہرا اسے مارو پھتر
میری بیٹی سے لیا جائے گا خم کا بدلہ
کربلا اس لیے صغرا کو۔۔۔
شہہ نے نانا کی لحد چھوڑی تھی یہ کہتے ہوئے
کوئی تو ہو جو میرے بعد میری جانب سے
آکے روزے پہ جلائے میرے حصے کا دیا
کربلا اس لیے صغرا کو۔۔۔
شہہ نے ذیشان کہا ایک سبب ہے یہ بھی
بھائی کو جیسے شام میں منوائے گی
یہ میرا نام مدنیے میں رکھےگی زندہ
کربلا اس لیے صغرا کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.