Mere baba khairiat
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Nadeem Sarwar
صغریٰ غش سے چونک کر اُٹھی
بولی سر کو پیٹتی ہوئی
ہائے میری نیند اُڑ گئی
میرے بابا خیریت سے ہو
دیکھا آج میں نے کیسا خواب
ریت پر پڑے ہیں کچھ گلاب
چُن رہے ہیں جن کو بو تراب
خون رو رہا ہے آفتاب
ہائے میری نیند ۔۔۔
اک طرف علم ہے خون میں تر
جھک گئی ہے شہہ کی کمر
جا رہی ہے جس طرف نظر
بیبیاں کھڑی ہیں ننگے سر
ہائے میری نیند ۔۔۔
ہائے ہے قاسمِ جواں
بین کر رہی ہے جس کی ماں
ہل گئے زمین و آسماں
توڑی جب دُلہن نے چوڑیاں
ہائے میری نیند ۔۔۔
اک بچی سینہِ پدر
ڈھونڈتی رہی اِدھر اُدھر
باپ سو رہا تھا خاک پر
جس کے تن سے کٹ چکا تھا سر
ہائے میری نیند ۔۔۔
قید ہیں رسول زادیاں
ہاتھ میں بندھی ہیں رسیاں
بے کجاوا ہیں عماریاں
خوں رو رہا ہے سارباں
ہائے میری نیند ۔۔۔
خواب یہ بڑا عجیب تھا
بعد شاہِ دیں غریب تھا
کیا یہی میرا نصیب تھا
بے کفن میرا طبیب تھا
ہائے میری نیند ۔۔۔
سرور و ریحان کی دُعا
ہو قبول شاہِ کربلا
کوئی بیٹی اور اس طرح
پھر تڑپ کے یوں نہ دے صدا
ہائے میری نیند ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.