Mai roti rahi zaar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Irfan Haider
جب قاصد صغرا مقتل پہنچا
اس نے دیکھا دشت میں تنہا
بیٹھے ہیں سرور
ہاتھوں پہ لے کر لاشہء اکبر
دل تھام کے پھر مولا نے
تحریر پڑھی صغرا کی
دکھیا نے کیا تھا نوحہ
بابا تم بھی نہ آے
بھیا اکبر نہ آئے
نہ آیا میرا علمدار
زار و زار میں روتی رہی
نوحہ تھا یہ صغرا کا
جب شام ڈھلے میں بیٹھی
چوکھٹ پہ آکر
نظروں کو بچھا کر روی
یہ بات کہہ کر
تجھے آج بھی راہیں روتی ہیں
ہمشیر کی باہیں روتی ہیں
میرے اکبر میرے غم خوار
زار و زار میں روتی رہی۔۔۔
نوحہ تھا یہ صغرا کا۔۔۔
اور کام میرا اب کیا ہے
آنسوں بہانا
یاد آے مجھے ہر لمحہ
اصغر کا جانا
جھولے کی ہلا کر ڈوریاں
دیتی ہوں اسے میں لوریاں
میرا جینا ہوا دشوار
زار و زار میں روتی رہی۔۔۔
نوحہ تھا یہ صغرا کا۔۔۔
دن رات تمہارے غم میں
روتی ہے صغریٰ
اے بابا چچا سے کہنا
مرتی ہے صغرا
کیوں دور میں تم سے رہتی ہوں
میں بھی تو سکینہ جیسی ہوں
کیا مجھ سے نہیں ہے پیار
زار و زار میں روتی رہی۔۔۔
نوحہ تھا یہ صغرا کا۔۔۔
نظروں میں سبھی کے چہرے
رہتے ہیں بابا
کیوں عون و محمد مجھ سے
روٹھے ہیں بابا
میرے قاسم و اکبر آجائے
سب میرے برادر آجائے
نہیں جینے سے پھر انکار
زار و زار میں روتی رہی۔۔۔
نوحہ تھا یہ صغرا کا۔۔۔
کچھ روز کی میں مہماں ہوں
دنیا میں بابا
کیا تم کو گنوارا ہے میں
مر جاؤں تنہا
کچھ روز اگر نہ آئے نگے
صغریٰ کو لحد میں پاے نگے
میرے بابا میرے سردار
زار و زار میں روتی رہی۔۔۔
نوحہ تھا یہ صغرا کا۔۔۔
اماں سے پھپھی زینب سے
کہہ دینا بابا
تم فاتحہ پڑھنے میرے
مرقد پہ آنا
اکبر بھی اگر ساتھ آے گا
بیمار کو چین آ جائے گا
سارے کنبے کی ماتم دار
زار و زار میں روتی رہی۔۔۔
نوحہ تھا یہ صغرا کا۔۔۔
جب میری لحد پر پہنچے
عرفان اور مظہر
دونوں نے دیا تھا پرسہ یہ
نوحہ پڑھ کر
بابا تم بھی نہ آئے
بھیا اکبر نہ آئے
نہ آیا میرا علمدار
زار و زار میں روتی رہی۔۔۔
نوحہ تھا یہ صغرا کا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.