Kya hum bhi tumhe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Ali Shanawar
ہاے صغرا ہاے صغرا
بھیا علی اکبر بھیا علی اکبر
صغرا نے یہ خط کو لکھا
کیسے ہو میرے پیارے بھیا
بچھڑے ہوے عرصہ بیت گیا
کب تک یہ بہن دیکھے رستہ
جب گھر کو پرندے جاتے ہیں
کیا ہم بھی تمہیں یاد آتے ہیں
لو قاصد صغرا گھر سے چلا
لکھا ہے بتاؤ اے بھیا
اب تک نہ خیال آیا میرا
کیا ایسی ہوی ہے مجھ سے خطا
کیا ایسے روٹھ کے جاتے ہیں
کیا ہم بھی تمہیں۔۔۔
سب چھوڑ گےء ہم کو تنہا
کس حال میں ہوں کیا تم کو پتہ
بیمار کو دے اب کون دوا
آجاؤ جو تم میں پاؤں شفا
جب چین سے سب سو جاتے ہیں
کیا ہم بھی تمہیں۔۔۔
جب بالی سکینہ اور اصغر
ملتے ہیں گلے تم سے ہنس کر
اور ساتھ میں ہو ماں اور پدر
بس اتنا بتا بھیا اکبر
سب گھر میں ہنستے ہنساتے ہیں
کیا ہم بھی تمہیں۔۔۔
جب جب بھی مصلے پر بھیا
کرتے ہو نماز فجر ادا
بیمار کے حق میں بہر شفا
کرتے ہیں دعا میرے بابا
سب اپنے ہاتھ اٹھاتے ہیں
کیا ہم بھی تمہیں۔۔۔
قاسم جو سکینہ کو بھیا
دیتا ہے کوی لا کر تحفہ
دونوں سے گلے مل کر بابا
دیتے ہیں دعا لیکر بوسہ
اور پیار سے سر سہلاتے ہیں
کیا ہم بھی تمہیں۔۔۔
جب گھر میں خوشی کا ہوں ساماں
سب ایک جگہ ہو پیر و جواں
خوش دیکھ کے سب کو ہو اماں
آجاے کوی گھر میں مہمان
جب دستر خوان بچھاتے ہیں
کیا ہم بھی تمہیں۔۔۔
حسرت ہے تیرا سہرا دیکھوں
مانجاے تیرا ماتھا چوموں
باتیں تو بہت ہیں کیا لکھوں
نادار ہوں بھیا کیا بھیجوں
احباب جو تحفے لاتے ہیں
کیا ہم بھی تمہیں۔۔۔
جب ذکر کبھی ہوتا ہوگا
مانجاے تمہاری شادی کا
خوش ہونگی سکینہ اور کبرا
باندھے گا علی اکبر سہرا
خوشیوں کے پھول کھلاتے ہیں
کیا ہم بھی تمہیں۔۔۔
کیا اور لکھوں کیا بتلاؤں
دل چیر کے کیسے دکھلاؤں
خود آؤ کہ تم کو بلواوں
بھیا میں تجھے کیسے پاؤں
بس تنہا اشک بہاتے ہیں
کیا ہم بھی تمہیں۔۔۔
قاصد جو خط صغرا لایا
اک باپ کمر تھامے تھا کھڑا
بھای کے لبوں پر تھا صغرا
رو رو کے شناور اور رضا
خط صغرا کا دہراتے ہیں
بھیا علی اکبر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.