Khayal e sughra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Raza Abbas Zaidi
خیال صغرا
خبر آی آنے کو ہے قافلہ
تو صغرا نے قلب حزیں سے کہا
تڑپنے سے رونے سے اب کام کیا
تیرا شکریہ رب ادا کیسے ہو
کہ بچھڑے ہوؤں کو ملاتا ہے تو
پھر اٹھ کر یہ غازی کی ماں سے کہا
چلو اماں آیا ہے کنبہ میرا
اب میں کہاں روتی ہوں
اجالے میری سمت بڑھنے لگے
کہ بابا حسین آج گھر آ رہے ہیں
میں بابا کو دیکھونگی تو جی اٹھونگی
بلاییں سکینہ کی اصغر کی لونگی
بہت خوش ہوں آتا ہے اکبر میرا
اب میں کہاں روتی ہوں۔۔۔
میں بابا کے جھک کر قدم چوم لونگی
بھلایا مجھے ان سے شکوہ کروں گی
نہ تم آے بابا نہ گھر آے اکبر
نہ پاتے ہمیں دیر ہوتی جو دم بھر
تم آے کروں کیوں نہ شکر خدا
اب میں کہاں روتی ہوں۔۔۔
سجا لوں میں کا ہجرہ زرا
سنا ہے میرا بھائی دولہا بنا
نہ یاد آی بہنا ہے دل میں چھبھن
مگر خوش ہوں لاے گا اکبر دولہن
تو سایہ کروں گی میں قرآن کا
اب میں کہاں روتی ہوں۔۔۔
نہ پیاسی ہو میری سکینہ کہیں
ہے پہلے سفر اور جلتی زمیں
نہ گرمی سے سوکھے ہوے ہو گلے
بنالوں میں شربت سبھی کے لئے
پلاینگے گھر آ کے سب کو چچا
اب میں کہاں روتی ہوں۔۔۔
جو گزری پھپھی کو بتاؤں گی میں
گلے مل کے اماں سے روؤنگی میں
لیےء ہونگی اصغر کو چادر تلے
کہ ننھی سے جان زیر سایہ رہے
میری گود میں ہو گا اصغر میرا
اب میں کہاں روتی ہوں۔۔۔
اچانک اٹھا شور آے حرم
بڑھی کہکے صغرا الہی کرم
گلے مل کے غازی کی ماں سے کہا
چلو اماں آیا ہے کنبہ میرا
نہ روؤ خدارا خوشی کی ہے جا
اب میں کہاں روتی ہوں۔۔۔
جو نکلی تو آہوں کا طوفان تھا
نظر آیا اجڑا ہوا قافلہ
جو غش کھا کے وہ غم کی ماری گری
تو ناقے سے ماں کی عماری گری
کبھی پھر نہ گونجی فضا میں صدا
اب میں کہاں روتی ہوں۔۔۔
مدینے کی گلیوں میں اب بھی ثمر
یہ دیکھا ہے پھٹتا ہے غم سے جگر
فضا ساری اشکوں سے بھیگی ہوی
یہ کہتی ہے صغرا تو اب نہ رہی
ہے خاموش ہونٹوں پہ نوحہ رضا
اب میں کہاں روتی ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.